22/07/2026 19:41 - Otros
ارجنٹائن کی خبر رساں ایجنسی Infobae کے مطابق، ایک بلیک ہول پھر سے پھٹ پڑا اور پہلی بار سائنسدانوں نے اسے براہ راست دیکھا۔ یہ آئی سی 3599 (IC 3599) کہکشاں کے مرکز میں 35 سال میں تیسرا دھماکہ ہے، جو زمین سے 280 ملین نوری سال دور ہے۔
نوری سال (Light-year): یہ فاصلے کی اکائی ہے جو روشنی ایک سال میں طے کرتی ہے۔ 280 ملین نوری سال کا مطلب ہے کہ ہم اس واقعے کو دیکھ کر 280 ملین سال پرانا منظر دیکھ رہے ہیں۔
شمالی کینٹکی یونیورسٹی کے ڈی گروپ (D. Grupe) کی قیادت میں ٹیم نے اپنی تحقیق arXiv پر شائع کی۔ ماہانہ مشاہدات جو 2013 میں شروع ہوئے تھے، اکتوبر 2025 میں چمک میں اضافہ کو notice کرنے میں کلیدی ثابت ہوئے۔
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اس کہکشاں کی چمک معمول سے تقریباً 50 گنا بڑھ گئی۔ ماہرین نے سوئفٹ (Swift) اور XMM-Newton خلائی دوربینوں کے علاوہ لِک (Lick)، زنگلونگ (Xinglong)، اور کوکیزس ماؤنٹین آبزرویٹری (CMO) کا استعمال کیا۔ ٹیم کے مطابق بلیک ہول میں تقریباً 2 ملین شمسی کمیت موجود ہے۔
بلیک ہول (Black Hole): مادے کی ایسی انتہائی کثافت جہاں کشش ثقل اتنے مضبوط ہوتی ہے کہ روشنی بھی فرار نہیں ہو سکتی۔ اس کی حد کو ایونٹ ہوریزون کہا جاتا ہے۔
ایکریشن ڈسک (Accretion Disk): یہ وہ حصہ ہے جہاں گیس اور مادہ بلیک ہول کے گرد چکر کاٹتے ہیں۔ کشش ثقل انہیں لاکھوں ڈگری تک گرم کر دیتی ہے، جس سے وہ ایکس رے خارج کرتے ہیں۔
سائنسدانوں کے مطابق، اس کی وجہ ایکریشن ڈسک میں ریڈی ایشن پریشر انسٹیبلٹی ہو سکتی ہے۔ اس میں روشنی گیس پر اتنے دباؤ ڈالتی ہے کہ نظام غیر مستحکم ہو جاتا ہے اور مادہ اندر کی طرف گر جاتا ہے۔ اس کے بعد ڈسک خالی ہو جاتی ہے اور دوبارہ بھر جاتی ہے۔
پچھلے واقعات (1990 اور 2010) اور اس واقعے کے درمیان وقفے 19.5 سال اور 15.7 سال تھے۔ اس فرق کی وجہ سے یہ کسی مستقل دورانیے کے بجائے بے قاعدہ ہے۔ اگرچہ دیگر امکانات موجود ہیں، لیکن یہ دریافت مادے کی انتہائی حالات میں حرکت کو سمجھنے کے لیے ایک بے تحاشا امید افزا قدم ہے، جو مستقبل میں کائنات کے رازوں کو سمجھنے میں مدد دے گی۔
Alfredo S. Quiroga