آج 17 اگست کو ارجنٹائن کے عظیم آزادی پسند جنرل ہوزے دے سان مارٹن کی موت کو 176 سال مکمل ہو رہے ہیں۔ وہ ہیرو جس نے جنوبی امریکہ کو ہسپانوی راج سے آزاد کرایا، لیکن اپنے آخری دنوں میں فرانس کے ایک چھوٹے سے قصبے میں تنہا اور بیماری سے لڑتا ہوا مر گیا۔

ارجنٹائن میں 17 اگست کو قومی تعطیل کے طور پر منایا جاتا ہے، لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اس عظیم ہیرو کا انتقال فرانس کے ایک ساحلی قصبے بولون-سور-میر میں ہوا تھا، اپنے وطن سے ہزاروں میل دور۔ ان کی زندگی کے آخری ایام غربت، بیماری اور وطن کی بے وفائی کی داستان ہیں۔

ایک ہیرو جسے وطن بھول گیا

سان مارٹن 25 فروری 1778 کو ارجنٹائن کے شہر یاپیو میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے چلی اور پیرو کو ہسپانوی راج سے آزاد کرایا اور اینڈیز پہاڑوں کے تاریخی عبور کی قیادت کی۔ لیکن 1824 میں، سیاسی اختلافات سے تنگ آکر، وہ اپنی بیٹی مرسڈیز کے ساتھ یورپ چلے گئے۔

انفوبے کی رپورٹ کے مطابق، سان مارٹن نے اپنے آخری سال بیلجیم اور فرانس میں گزارے۔ ان کی صحت خراب تھی، آنکھوں پر موتیا بند تھا اور پیٹ کی بیماری نے انہیں کمزور کر دیا تھا۔

خاندان اور جلاوطنی

فرانس میں انہوں نے ایوری-سور-سین میں ایک گھر خریدا اور اپنی بیٹی مرسڈیز اور داماد ماریانو بالکارسے کے ساتھ رہتے تھے۔ 1848 میں پیرس میں انقلاب کے بعد وہ بولون-سور-میر منتقل ہو گئے۔ وہاں انہوں نے گران رو 105 پر واقع ایک مکان کا دوسرا فلور کرائے پر لیا۔ مکان کا مالک، ایڈولف جیرارڈ، ان کا قریبی دوست بن گیا۔

موت کا سفر

17 اگست 1850 کی صبح، سان مارٹن نے اپنی بیٹی سے اخبار پڑھنے کو کہا اور مسکرا کر اپنے درد چھپائے۔ دوپہر دو بجے انہیں پیٹ میں شدید درد ہوا۔ تین بجے انہوں نے اپنی بیٹی کو دور بھیجا اور 72 سال، 5 ماہ اور 23 دن کی عمر میں انتقال کر گئے۔

"ان کی موت سے ایک ایسا خلا پیدا ہوا جو ہماری روحوں میں ہے اور جلد نہیں بھرے گا" - ایڈولف جیرارڈ

تاخیر سے خراج عقیدت

ان کی تجہیز و تکفین میں صرف چند افراد شریک ہوئے۔ ان کی باقیات کو 1880 میں ارجنٹائن واپس لایا گیا اور اب وہ بیونس آئرس کے کیتھیڈرل میں آرام کر رہے ہیں۔

اہم معلومات
  • پیدائش: 25/02/1778
  • وفات: 17/08/1850
  • عمر: 72 سال
  • بیٹی: مرسڈیز
فوجی کارنامے

انہوں نے 1812 میں گھڑسوار رجمنٹ بنائی، 1817 میں اینڈیز پار کیا، چلی اور پیرو کو آزاد کرایا۔