نیپال میں ہمالیہ کے علاقے میں آنے والے شدید سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے تباہی مچا دی ہے۔ یکم ستمبر 2026 تک مرنے والوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ شدید مون سون بارشوں نے ملک کو ہنگامی حالت میں ڈال دیا ہے، جبکہ بین الاقوامی امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں پہنچ رہی ہیں۔

ایک بے مثال تباہی

یکم ستمبر 2026 کو نیپال میں ہمالیہ کے علاقے میں آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں مرنے والوں کی سرکاری تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ فرانسیسی اخبار لی موندے کے مطابق، اگست کے وسط سے شروع ہونے والی شدید بارشوں نے ملک کو دہائیوں کی بدترین قدرتی آفت سے دوچار کر دیا ہے۔

نیپالی حکام نے تصدیق کی ہے کہ ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ سینکڑوں لاپتہ افراد کی تلاش جاری ہے۔ امدادی ٹیمیں ملبے اور کیچڑ میں پھنسے لوگوں کو نکالنے کے لیے دن رات کام کر رہی ہیں، لیکن خراب موسم کی وجہ سے کارروائیاں مشکل ہو رہی ہیں۔

متاثرہ کمیونٹیز پر اثرات

سیلاب نے پورے گاؤں کو تباہ کر دیا ہے، فصلیں برباد ہو گئی ہیں اور ہزاروں خاندان بے گھر ہو گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، دو لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوئے ہیں اور حکومت اور انسانی ہمدردی کی تنظیموں کے قائم کردہ عارضی کیمپوں میں پناہ لی ہے۔ پینے کے صاف پانی اور خوراک کی کمی نے بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ پیدا کر دیا ہے۔

نیپالی حکومت نے متاثرہ علاقوں میں قومی ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ اقوام متحدہ اور ریڈ کراس سمیت بین الاقوامی برادری نے انسانی امداد بھیجنا شروع کر دی ہے۔ تاہم، لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے سڑکوں اور پلوں کے بلاک ہونے کی وجہ سے پہاڑی علاقوں تک رسائی انتہائی مشکل ہے۔

موسمیاتی تناظر اور پس منظر

نیپال، ہمالیہ کے قلب میں واقع، قدرتی آفات کے لیے سب سے زیادہ خطرے والے ممالک میں سے ایک ہے۔ مون سون کی بارشیں، جو عام طور پر جون سے ستمبر تک ہوتی ہیں، اس سال خاص طور پر شدید رہی ہیں، اور ریکارڈ تاریخی اوسط سے زیادہ بارش ہوئی ہے۔ سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اس خطے میں انتہائی موسمی واقعات کی تعدد اور شدت کو بڑھا رہی ہے۔

2015 میں، 7.8 شدت کے زلزلے نے ملک میں 8,000 سے زائد جانیں لی تھیں، اور اب یہ نیا سانحہ ایک ایسی قوم کی برداشت کا امتحان لے رہا ہے جو ابھی اس آفت سے نکل رہی تھی۔ موجودہ سیلاب کا موازنہ 2017 کے سیلاب سے کیا جا رہا ہے، جب جنوبی ایشیا میں 1,200 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے، لیکن اس بار اثرات شمالی پہاڑی علاقوں میں مرکوز ہیں۔

ریسکیو کوششیں اور یکجہتی

نیپالی فوج نے بین الاقوامی ریسکیو ٹیموں کے ساتھ مل کر ہیلی کاپٹر اور کشتیاں متاثرہ علاقوں میں روانہ کی ہیں۔ اب تک 5,000 سے زائد افراد کو بچایا جا چکا ہے، لیکن حکام کو خدشہ ہے کہ جیسے جیسے دور دراز علاقوں تک رسائی ہوگی، ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

یکجہتی صرف بیرون ملک سے نہیں آ رہی: ہزاروں نیپالی رضاکار امدادی کاموں میں شامل ہو گئے ہیں، خوراک، کمبل اور ادویات تقسیم کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا عطیات کو مربوط کرنے اور لاپتہ افراد کے بارے میں معلومات پھیلانے کا ایک اہم ذریعہ بن گیا ہے۔

سانحے کے اہم اعداد و شمار

اشارہتعداد
تصدیق شدہ امواتایک ہزار سے زائد
لاپتہ افرادسینکڑوں
بے گھر افراددو لاکھ سے زائد
بچائے گئے افراد5,000 سے زائد
اعداد و شمار کی تاریخیکم ستمبر 2026

صورتحال اب بھی تشویشناک ہے، اور حکام بین الاقوامی برادری سے نیپال کی تاریخ کی بدترین قدرتی آفات میں سے ایک سے نمٹنے کے لیے مسلسل مدد کی اپیل کر رہے ہیں۔ اس دوران، پورا ملک اپنے متاثرین پر ماتم کر رہا ہے اور ایک طویل تعمیر نو کی تیاری کر رہا ہے۔

ماخذ: لی موندے