بیونس آئرس کی اہم شاہراہ AU Perito Moreno پر جمعہ کی صبح تین گاڑیوں کے درمیان تصادم ہوا، جس کے باعث شہر کے مرکز کی جانب جانے والی لین بند کر دی گئی۔ حکام نے ڈرائیوروں سے احتیاط برتنے اور متبادل راستے استعمال کرنے کی اپیل کی ہے۔

کیا ہوا؟

آج جمعہ 4 ستمبر 2026ء کی صبح، ارجنٹائن کے دارالحکومت بیونس آئرس میں AU Perito Moreno نامی شاہراہ پر، Eva Perón ایونیو کے قریب، شہر کے مرکز کی جانب جانے والی سمت میں تین گاڑیوں کا تصادم ہوا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، اس حادثے میں تین کاریں شامل تھیں، جس کی وجہ سے علاقے میں ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔

حادثے کے بعد شاہراہ کی دائیں لین کو بند کر دیا گیا ہے، جبکہ امدادی ٹیمیں اور ٹریفک پولیس جائے وقوعہ پر موجود ہیں تاکہ زخمیوں کی مدد کی جا سکے اور سڑک کو جلد از جلد کلیئر کیا جا سکے۔

ڈرائیوروں کے لیے ہدایات

حکام نے ڈرائیوروں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس علاقے میں رفتار کم کریں، گاڑیوں کے درمیان مناسب فاصلہ رکھیں، اور اگر ممکن ہو تو متبادل راستوں کا استعمال کریں تاکہ ٹریفک جام سے بچا جا سکے۔ توقع ہے کہ چند گھنٹوں میں، معائنے اور گاڑیوں کو ہٹانے کے بعد ٹریفک معمول پر آ جائے گی۔

AU Perito Moreno: ایک اہم شاہراہ

AU Perito Moreno (جسے AU 6 بھی کہا جاتا ہے) بیونس آئرس شہر کے مغربی مضافات سے شہر کے مرکز تک رسائی کے لیے ایک اہم راستہ ہے۔ یہ شاہراہ General Paz کو Autopista 25 de Mayo سے ملاتی ہے اور روزانہ ہزاروں ڈرائیور اسے استعمال کرتے ہیں۔ زیادہ ٹریفک کی وجہ سے، کسی بھی حادثے کے نتیجے میں فوری طور پر رش اور تاخیر ہو جاتی ہے۔

اس قسم کے حادثات عام طور پر اونچے اوقات (پیک آورز) میں پیش آتے ہیں، جب گاڑیوں کی کثافت زیادہ ہوتی ہے اور ڈرائیور مناسب فاصلہ برقرار نہیں رکھتے۔ حکام ڈرائیوروں کو یاد دلاتے ہیں کہ وہ محفوظ فاصلہ رکھیں اور رفتار کی حدوں کا احترام کریں۔

ڈرائیونگ سیفٹی کے مشورے

  • ہمیشہ رفتار کی حدوں اور ٹریفک کے نشانات کا احترام کریں۔
  • سامنے والی گاڑی سے کم از کم دو سیکنڈ کا فاصلہ رکھیں۔
  • گاڑی میں موجود تمام افراد سیٹ بیلٹ پہنیں۔
  • ڈرائیونگ کے دوران موبائل فون استعمال کرنے سے گریز کریں۔
  • بارش یا خراب موسم میں احتیاط کریں اور رفتار کم رکھیں۔

ڈرائیوروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ ٹریفک کی تازہ ترین معلومات کے لیے سرکاری ٹریفک اکاؤنٹس (جیسے @VTVinfo یا @ArEstadoRutas) کو فالو کریں۔

ماخذ: ٹریفک رپورٹس اور سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹس۔