یمن کے حوثی باغیوں نے ایک اچانک اور تیز رفتار حملے میں موکا کی اہم بندرگاہ اور خطے کے سب سے بڑے فوجی اڈے پر قبضہ کر لیا ہے، جس سے وہ 6,000 مربع کلومیٹر سے زائد رقبے کے مالک بن گئے ہیں۔ اس پیش رفت نے عالمی تجارتی راستوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے، جبکہ سعودی عرب نے شدید فضائی حملوں سے جواب دیا ہے اور عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئی ہیں۔

بحیرہ احمر کے ساحل پر حوثیوں کی بڑی پیش رفت

یمن کے حوثی باغیوں نے تائز صوبے میں واقع موکا (Mocha) کی اسٹریٹجک بندرگاہ پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ یہ پیش رفت ان کی اس بڑی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد بحیرہ احمر کے پورے ساحل پر قبضہ کرنا ہے۔ The Guardian کی رپورٹ کے مطابق، حوثیوں نے نہ صرف بندرگاہ بلکہ اندرونی شہر حیس (Hays) اور خطے کے سب سے بڑے فوجی اڈے خالد بن الولید کیمپ پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔

اہم معلومات: تجزیہ کاروں کے مطابق، حوثیوں نے گزشتہ چند دنوں میں 6,000 مربع کلومیٹر سے زائد زمین پر قبضہ کر لیا ہے، جس سے یمنی حکومت کی بحیرہ احمر تک رسائی ختم ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

سعودی ردعمل اور علاقائی تناؤ

سعودی عرب، جو یمنی حکومت کی حمایت میں فوجی اتحاد کی قیادت کر رہا ہے، نے جمعرات کو حوثیوں کے ٹھکانوں پر تقریباً 40 فضائی حملے کیے ہیں۔ یہ لڑائی اب متعدد صوبوں تک پھیل چکی ہے جن میں اد دلیل، البیضاء، مأرب، شبوہ، الجوف، الحديدہ اور تائز شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بحیرہ احمر میں واقع اسٹریٹجک جزائر ذُقار اور حanish پر میزائل حملے بھی کیے گئے ہیں۔

مدتجانی نقصان (ACLED تخمینہ)واقعہ
3 سے 7 ستمبر276 ہلاکتیںسنگین ترین فوجی تصادم

اسٹریٹجک مقصد: عالمی تجارت پر دباؤ

حوثیوں کی اس پیش قدمی کا مقصد سعودی عرب اور امریکہ پر دباؤ ڈالنا ہے تاکہ خلیج میں ایرانی تیل کے ٹینکرز پر لگی امریکی پابندیاں ختم کی جائیں۔ اگر حوثی ساحل پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیتے ہیں تو ایران اور اس کے اتحادی عالمی تجارت کے دو اہم ترین راستوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں:

  • باب المندب (Bab al-Mandeb): وہ تنگ راستہ جو بحیرہ احمر کو بحر ہند سے ملاتا ہے۔
  • ہرمز کی تنگہ (Strait of Hormuz): خلیج فارس کا مرکزی راستہ جہاں سے تیل کی سپلائی ہوتی ہے۔

بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت اس وقت شدید بحران کا شکار ہے۔ جنرل طارق صالح نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے موکا کے جنوب میں اسٹریٹجک پسپائی اختیار کی ہے تاکہ اپنی فوجوں کو دوبارہ منظم کیا جا سکے۔

تناؤ کاe Timeline (تاریخی ترتیب)

اس موجودہ بحران کی جڑیں جولائی 2026 میں ملتی ہیں جب سعودی عرب نے صنعاء ایئرپورٹ کے رن وے پر بمباری کی تاکہ ایرانی وفد کو لانے والے طیارے کو روکا جا سکے۔ اس کے جواب میں:

  • 20 جولائی: حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا۔
  • 25 جولائی: جازان کی ریفائنری پر حملہ۔
  • 24 اگست: ینبع کے قریب ایک آئل ٹینکر پر حملہ۔
  • 3 سے 7 ستمبر: ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے سعودی توانائی کے مراکز پر شدید حملے۔

عالمی اثرات اور مستقبل

اس جنگ نے عالمی معیشت کو متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے، جو کہ 2022 کے بعد پہلی بار ہوا ہے۔ واشنگٹن میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ نومبر کے انتخابات تک ایران کے ساتھ یہ جنگ ختم ہونے کی توقع نہیں ہے۔

امید ہے کہ بین الاقوامی سفارتی کوششیں جلد ہی اس خطے میں امن اور استحکام واپس لائیں گی تاکہ عالمی تجارت اور انسانی زندگیوں کا تحفظ ممکن ہو سکے۔

متعلقہ