معاشی ترقی کا تجزیہ اور خطرات
جیسا کہ The Guardian نے رپورٹ کیا ہے، بین الاقوامی مانیٹری فنڈ (IMF) نے آسٹریلیا کی وفاقی اور ریاستی حکومتوں کو خبردار کیا ہے۔ آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ عوامی اخراجات میں کمی مہنگائی (Inflation) سے لڑنے اور قرضوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ کو روکنے کے لیے ایک ضروری قدم ہے۔
جی ڈی پی (GDP) کی پیش گوئی
سال 2026 کے لیے آئی ایم ایف 1.9% ترقی کی پیش گوئی کرتا ہے۔ تاہم، سال 2027 کے لیے اس پیش گوئی کو 0.1 فیصد کم کر کے 1.6% کر دیا گیا ہے۔
شرح سود کا اثر
یہ تبدیلی اس خدشے کی وجہ سے ہے کہ ریزرو بینک آف آسٹریلیا (RBA) شرح سود میں اضافہ کر سکتا ہے۔ مارکیٹ کے مطابق 29 ستمبر تک ایسا ہونے کا احتمال 80% ہے۔
توانائی کے قیمتوں میں اضافہ اور پیداواری صلاحیت
آسٹریلیا کی معیشت عالمی 지정ی تناؤ سے محفوظ نہیں ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق، عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی کو بڑھانے کا ایک بڑا سبب بن رہا ہے۔ مثال کے طور پر، مشرق وسطیٰ میں تناؤ کی وجہ سے برینٹ خام تیل (Brent Oil) کی قیمت 108 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے، جو اگست کے مقابلے میں 35% اضافہ ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ، پیداواری صلاحیت (Productivity) میں سست روی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، جس کی وجہ سے معیشت بڑھتے ہوئے اخراجات کو برداشت کرنے کے بجائے قیمتوں میں اضافہ کرنے پر مجبور ہے۔
مالی صورتحال اور سرکاری قرضے
وفاقی اور ریاستی حکومتوں کے درمیان مالی خسارہ پچھلے دو سالوں میں بڑھا ہے۔ اس کی بنیادی وجوہات درج ذیل ہیں:
- انفراسٹرکچر (بنیادی ڈھانچے) میں بھاری سرمایہ کاری۔
- صحت کے شعبے میں اخراجات میں اضافہ۔
- نیشنل ڈس ایبلٹی انشورنس اسکیم کا نفاذ۔
توجہ طلب بات: نیو ساؤتھ ویلز اور کوینزلینڈ جیسی ریاستیں اب قرضوں پر اتنی شرح سود ادا کر رہی ہیں جو وبائی مرض (Pandemic) سے پہلے کے مقابلے میں دو گنا زیادہ ہے۔
ہاؤسنگ اور ٹیکس اصلاحات
آئی ایم ایف نے لیبر حکومت کی ان اصلاحات کی حمایت کی ہے جو سرمایہ کاروں کے ٹیکسوں سے متعلق ہیں۔ اس کا مقصد "negative gearing" (ایک ایسا طریقہ جہاں کرایوں سے ہونے والے نقصان کو دوسری آمدنی سے منہا کیا جاتا ہے) کو کم کرنا ہے تاکہ سرمایہ کاری پراپرٹی کے سٹہ بازی کے بجائے پیداواری شعبوں میں جائے۔
اگرچہ یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ گھروں کی قیمتوں میں کمی سے نوجوانوں کے لیے گھر خریدنا اب بھی مشکل ہے۔
سیاسی پس منظر
یہ وارننگ خزانہ وزیر جم چالمرز کے لیے ایک مشکل وقت پر آئی ہے، کیونکہ حکومت اپنی بین نسلاتی رپورٹ (Intergenerational Report) شائع کرنے والی ہے، جس سے موجودہ اخراجات کے ماڈل پر سوالات اٹھ سکتے ہیں۔