زیدان کا 'لوہے کا ہاتھ': کلیر فونٹین میں سخت ڈسپلن
یہ وہ زیدان نہیں ہیں جنہیں ہم ریال میڈرڈ میں مسکراتے ہوئے دیکھتے تھے۔ 18 ستمبر کو فرانس کے نئے سلیکٹر کے طور پر ذمہ داری سنبھالتے ہی انہوں نے نظم و ضبط کے ایسے سخت قوانین نافذ کیے ہیں جنہوں نے کھلاڑیوں کو چونکا دیا ہے۔
زیدان کا ماننا ہے کہ کامیابی کے لیے نظم و ضبط لازمی ہے۔ انہوں نے ایک ایسا نظام نافذ کیا ہے جسے 'کھیل کی سخت گیر حکومت' کہا جا سکتا ہے: ٹیم کے کیمپ میں آنے کے دوران کیمروں کا استعمال سخت منع ہے، فیشن ایبل اور عجیب و غریب لباس پہننے پر پابندی لگا دی گئی ہے، اور موبائل فونز کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ انفرادی انٹرویوز کی بھی اجازت نہیں ہے تاکہ کھلاڑی بیرونی دنیا سے کٹ کر صرف اپنے کھیل پر توجہ دیں۔
💣 ڈریسنگ روم میں دھماکہ!
ایک ایسے فیصلے نے سب کو حیران کر دیا جس کی کسی کو توقع نہیں تھی۔ زیدان نے ہرنینڈیز بھائیوں (Hernández brothers) اور اوریلین چوامین (Aurélien Tchouaméni) کو ٹیم سے باہر کر دیا ہے۔ یہ ایک واضح پیغام ہے کہ ٹیم میں کسی کے لیے بھی کوئی خاص رعایت نہیں ہوگی اور جرسی حاصل کرنے کے لیے صرف کارکردگی ہی معیار ہوگی۔
✅ واپسی اور نئی شروعات
جہاں کاماونگا (Camavinga) کی واپسی ایک بڑی خبر ہے، وہیں اصل کہانی نئے کھلاڑیوں کی ہے۔ زیدان نے پانچ نئے ناموں کو بلایا ہے، جن میں جیرمی جیکوئیٹ (Jérémy Jacquet)، گیوم ریسٹس (Guillaume Restes) اور سب سے زیادہ چرچا میں رہنے والا نام، اسٹیبن لیپال (Esteban Lepaul) شامل ہیں۔
✨ لیپال کا خواب پورا ہوا
فرانسیسی اخبار Le Parisien کے مطابق، اسٹیبن لیپال کے لیے یہ کال ایک جذباتی طوفان کی مانند تھی۔ کھلاڑی کی خوشی کا یہ عالم تھا کہ وہ تقریباً رونے والا تھا اور جذبات سے مغلوب ہو گیا۔ یہ وہی جنون ہے جسے زیدان پوری ٹیم میں دیکھنا چاہتے ہیں، تاکہ 25 ستمبر کو نیشنز لیگ میں ترکی کے خلاف ہونے والے میچ میں ایک نئی توانائی کے ساتھ اتریں جس کے لیے وہ تیار ہو رہے ہیں۔
| پابندی/اصلاح | زیدان کا اقدام |
|---|---|
| موبائل اور کیمرے | آمد و رفت اور ٹریننگ کے دوران ممنوع |
| لباس | عجیب و غریب یا فیشن ایبل لباس پر پابندی |
| میڈیا | انفرادی انٹرویوز کی اجازت نہیں |
| نئے کھلاڑی | 5 نئے نام (بشمول لیپال) |