اٹلی کے شہر Turin کے شمالی مضافات میں ایک 20 سالہ نوجوان نے ایک 12 سالہ بچے کے ساتھ جنسی زیادتی کا اعتراف کیا ہے۔ پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے، جس نے بچے کو دھوکے سے اپنی طرف مائل کیا اور بعد میں اسے خاموش رکھنے کے لیے رشوت دینے کی کوشش کی۔

عدالتی کارروائی اور گرفتاری

اطلاعات کے مطابق، ملزم ایک 20 سالہ نوجوان ہے جسے اس وقت Lorusso اور Cutugno کی جیلوں میں رکھا گیا ہے۔ یہ کیس Eleonora Guerra اور Giovanni Bombardieri کی سربراہی میں چل رہا ہے۔ قانون کے مطابق اسے 'شدید جنسی تشدد' (Aggravated Sexual Violence) کے زمرے میں رکھا گیا ہے، کیونکہ被害یہ ایک بچہ ہے اور جرم کا طریقہ انتہائی سنگین تھا۔

واقعہ کی تفصیلات

یہ افسوسناک واقعہ 18 ستمبر 2026 کو پیش آیا۔ بتایا جاتا ہے کہ ملزم نے سماجی رہائشی مکانات کے صحن میں بچے کو دیکھا اور اسے اسکوٹر (monopatín) پر سیر کرانے کا جھانسہ دے کر اپنے ساتھ لے گیا۔

ملزم بچے کو Parque dell'Arrivore (ایک مقامی پارک) لے گیا جہاں اس نے زیادتی کی۔ جرم کے بعد، ملزم نے بچے کو ایک مقامی منی مارکیٹ لے جا کر کھانے پینے کی چیزیں خرید کر دیں تاکہ وہ ڈر یا لالچ میں آ کر کسی کو نہ بتائے۔

ملزم کا موقف اور تحقیقات

تفتیش کے دوران ملزم نے اپنا جرم قبول کر لیا ہے۔ اس کا دعویٰ ہے کہ نشہ آور اشیاء کے استعمال کی وجہ سے اس سے یہ غلطی ہوئی۔ تاہم، پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ یہ ایک منصوبہ بند جرم تھا کیونکہ ملزم جان بوجھ کر بچے کو ایک ویران جگہ پر لے گیا تھا۔

اس کارروائی کو Turin پولیس نے مقامی گواہوں اور ثبوتوں کی بنیاد پر مکمل کیا۔

آگے کیا ہوگا؟ (قانونی مراحل)

ملزم کے اعترافات کی روشنی میں، توقع ہے کہ عدالت اسے طویل مدت تک جیل میں رکھنے کا حکم دے گی۔ چونکہ被害یہ کی عمر بہت کم ہے، اس لیے ملزم کو سخت سزا مل سکتی ہے۔ اب ماہرینِ نفسیات ملزم کا معائنہ کریں گے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ کیا نشے کی حالت اسے سزا میں رعایت دلوا سکتی ہے یا وہ معاشرے کے لیے ایک خطرناک شخص ہے جس کے لیے زیادہ سے زیادہ سزا ضروری ہے۔