فرانس کے دارالحکومت پیرس میں پراسیکیوٹرز نے ان خواتین کی شکایات پر متعدد عدالتی تحقیقات شروع کر دی ہیں جن کی اجازت کے بغیر 'کنیکٹڈ گلاسز' یا سمارٹ چشموں کے ذریعے ویڈیوز بنائی گئیں۔ یہ کیس پرائیویسی کی خلاف ورزی اور عوامی و نجی جگہوں پر جدید ٹیکنالوجی کے غلط استعمال سے متعلق ہے، جس نے سیکیورٹی کے حوالے سے نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔

ٹیکنالوجی کا غلط استعمال اور قانونی کارروائی

پیرس کی پراسیکیوشن (جسے مقامی طور پر Parquet de Paris کہا جاتا ہے) نے خواتین کے گروپ کی جانب سے دائر کی گئی شکایات کے بعد فوجداری مقدمات کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ ان تحقیقات کا مرکزی نقطہ 'کنیکٹڈ گلاسز' (Smart Glasses) کا استعمال ہے—یہ ایسی پہننے والی ڈیوائسز ہیں جو بہت خاموشی سے ویڈیو ریکارڈ کر سکتی ہیں، جس کی وجہ سے متاثرہ شخص کو معلوم بھی نہیں ہوتا کہ اس کی فلم بندی کی جا رہی ہے۔

تکنیکی سیاق و سباق: Wearable Tech کیا ہے؟

Wearable Technology سے مراد وہ الیکٹرانک آلات ہیں جنہیں جسم پر پہنا جا سکتا ہے (جیسے اسمارٹ واچ یا سمارٹ چشمے)۔ اگرچہ یہ ٹیکنالوجی زندگی کو آسان بنانے کے لیے بنائی گئی ہے، لیکن اس واقعے نے ظاہر کیا ہے کہ اسے پرائیویسی کی خلاف ورزی کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

جرم کی نوعیت

شکایات کے مطابق، حملہ آور عام نظر آنے والے چشموں کا سہارا لے کر لوگوں کی نظروں سے بچتے ہیں، جس سے ایک عام فیشن کی چیز غیر قانونی نگرانی (Surveillance) کے آلے میں بدل جاتی ہے۔

عدالتی عمل اور ڈیجیٹل ثبوت

موجودہ عدالتی کارروائی کا مقصد ذمہ داروں کی شناخت کرنا اور یہ معلوم کرنا ہے کہ کیا یہ ویڈیوز انٹرنیٹ پر پھیلائی گئی ہیں۔ پیرس کی عدالتیں اس بات کا جائزہ لے رہی ہیں کہ کیا یہ عمل ہراسانی (Harassment) یا نجی زندگی میں مداخلت کے زمرے میں آتا ہے۔ ماہرین اب ان آلات اور کلاؤڈ سٹوریج میں موجود ڈیجیٹل فائلوں کے سراغ لگا رہے ہیں۔

ذرائع: Le Monde

مستقبل کے ممکنہ اقدامات

امکان ہے کہ پراسیکیوشن مشتبہ افراد کے الیکٹرانک آلات کو ضبط کرنے کی درخواست کر سکتی ہے تاکہ کمپیوٹر فورینزکس کے ذریعے ثبوت اکٹھے کیے جائیں۔ اس کے علاوہ، اس بات پر غور کیا جا رہا ہے کہ کیا ڈیجیٹل تشدد سے متعلق قوانین کو مزید سخت کیا جائے۔ شاید فرانس میں ایسی ڈیوائسز کی فروخت کے لیے نئی ریگولیٹری سفارشات بھی جاری کی جا سکیں۔