کینیڈا کے صوبے اونٹاریو میں 'یوم کیپور' کے مقدس موقع پر ایک سابق فوجی نے یہودی عبادت گاہ 'سنز آف جیکب' پر شدید حملہ کیا۔ نفرت انگیز نظریات اور سازشی تھیوریوں سے متاثرہ حملہ آور پولیس کے ساتھ مقابلے کے بعد ہلاک ہو گیا۔ یہ واقعہ شمالی امریکہ میں بڑھتے ہوئے انتہا پسندی کے رجحانات کی عکاسی کرتا ہے۔

مقدس دن پر پرتشدد حملہ

رپورٹس کے مطابق، 21 ستمبر 2026 کو اتوار کے روز، اونٹاریو کے شہر بیلی ول (Belleville) میں یہودی کمیونٹی کو نشانہ بنایا گیا۔ شام تقریباً 7:00 بجے، جب لوگ یوم کیپور (Yom Kippur) کی عبادت میں مصروف تھے، ایک مسلح شخص نے 'سنز آف جیکب' (Sons of Jacob) نامی سیناگاگ (یہودی عبادت گاہ) پر گولیاں برسائیں۔

معلوماتی نوٹ: یوم کیپور یہودی مذہب کا سب سے مقدس دن ہے، جسے توبہ اور روزہ داری کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔

حملہ آور کی شناخت شان وارڈ (Sean Ward) کے طور پر ہوئی ہے جس کی عمر 29 سال تھی۔ اس نے ایک شاٹ گن سے تقریباً 25 گولیاں چلائیں، جو عبادت گاہ کی کھڑکیوں، گاڑیوں اور آس پاس کے گھروں میں لگیں۔ خوش قسمتی سے، عبادت گزاروں نے فوری طور پر ہال کے اندر پناہ لی اور زمین پر لیٹ گئے، جس کی وجہ سے ایک بڑا جانی المیہ ہونے سے بچ گیا۔

حملہ آور کا پروفائل

شان وارڈ کینیڈین فوج میں سابق کارپورل (Infantry Corporal) تھا۔ اس نے 2017 میں فوج میں شمولیت اختیار کی تھی، لیکن جون 2022 میں اسے فارغ کر دیا گیا۔

فوجی ذرائع کے مطابق، اس کی برطرفگی کی وجہ کووڈ-19 ویکسین لگوانے سے انکار اور سازشی نظریات کی تشہیر تھی۔ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ وہ انتہا پسند نظریات کا شکار ہو چکا تھا اور عالمی وبا کے لیے یہودی کمیونٹی کو ذمہ دار ٹھہراتا تھا۔

پولیس کا ردعمل

علاقے میں پہلے ہی سیکیورٹی سخت کی گئی تھی۔ حملے کے دوران، ڈیوٹی پر موجود پولیس آفیسر جیف سمتھ کو گولی لگی، جن کی حالت تشویشناک لیکن مستحکم بتائی گئی ہے۔

پولیس کے ساتھ شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد شان وارڈ شدید زخمی ہوا اور پیر کی رات ہسپتال میں اس نے دم توڑ دیا۔

حکومتی ردعمل اور قانونی کارروائی

اونٹاریو کی اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (SIU) نے اس واقعے کی نوعیت اور مقصد کو دیکھتے ہوئے اسے ایک دہشت گردانہ حملہ قرار دیا ہے۔

کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی (Mark Carney) اور اونٹاریو کے پریمیئر ڈگ فورڈ نے اس گھناؤنے فعل کی شدید مذمت کی ہے۔ کینیڈین حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ "Combatting Hate Act" (نفرت کے خلاف قانون) کا سختی سے نفاذ کرے گی تاکہ ڈیجیٹل اور زمینی سطح پر نفرت پھیلانے والے نیٹ ورکس کا خاتمہ کیا جا سکے۔

مستقبل کے اثرات

  • امکان ہے کہ اس حملے کے بعد کینیڈا اور امریکہ میں یہودی عبادت گاہوں کی سیکیورٹی میں اضافہ کیا جائے گا۔
  • حکومتِ کینیڈا سابق فوجیوں کی نگرانی کے لیے سخت قوانین متعارف کروا سکتی ہے جو انتہا پسندی کی طرف مائل ہوں۔
  • انسانی حقوق کی تنظیمیں سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد کی نگرانی کے لیے زیادہ شفافیت کا مطالبہ کر سکتی ہیں۔