فرانس، جو اپنی تاریخ میں مذہب سے دوری (Secularization) کے لیے جانا جاتا رہا ہے، اب ایک غیر متوقع موڑ پر کھڑا ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق، 2026 کے دوران اب تک 21,000 سے زیادہ افراد، جن میں اکثریت نوعمراں اور نوجوانوں کی ہے، نے 'کیٹیکومن' (Catechumens) کے طور پر رجسٹریشن کروائی ہے۔
یہ حیرت انگیز تبدیلی پوپ لیون XIV کے سرکاری دورے کی تیاریوں کے ساتھ ہم آہنگ ہے، جن کی شخصیت کو ان لوگوں کے لیے ایک روشنی کے مینار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو موجودہ دور کے ذہنی اور سماجی بحرانوں میں سکون اور جوابات تلاش کر رہے ہیں۔
پس منظر: فرانسیسی 'سیکولرزم' کیا ہے؟
اس واقعے کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ فرانس laïcité (لائیسٹے) کے اصول پر چلتا ہے۔ یہ ایک آئینی اصول ہے جو 1905 سے چرچ اور ریاست کو ایک دوسرے سے مکمل طور پر الگ رکھتا ہے۔ دہائیوں تک، فرانس میں مذہب کا اثر کم ہوتا رہا اور یہ مغربی یورپ کے سب سے زیادہ سیکولر ممالک میں شمار ہونے لگا۔ تاہم، نوجوانوں میں بپتسمہ (Baptism) کا یہ نیا رجحان پچھلے 30 سالوں کے رجحان کو بدل رہا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آج کی نسل ایسی شناخت اور تعلق تلاش کر رہی ہے جو صرف مادی دنیا میں نہیں ملتا۔
سماجی تجزیہ
نوجوانوں میں مذہب کی طرف یہ واپسی کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں ہے۔ یورپ میں بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی اور معاشی غیر یقینی صورتحال نے بہت سے نوجوانوں کو روایتی اقدار اور کمیونٹیز کی طرف دھکیلا ہے۔ پوپ لیون XIV کی شخصیت ایک پل کا کام کر رہی ہے، جو ڈیجیٹل دنیا کی تنہائی اور سماجی تقسیم سے تھکے ہوئے نوجوانوں کو اتحاد اور امید کا پیغام دے رہے ہیں۔
اہم اعداد و شمار
ایک سال سے بھی کم عرصے میں رجسٹریشن کروانے والے نئے امیدوار
یہ تعداد پچھلی دہائی کے اوسط کے مقابلے میں ایک بہت بڑا اچھال ہے
مستقبل کی امیدیں
موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ ممکن ہے کہ پوپ لیون XIV کا دورہ بپتسمہ کی درخواستوں اور مذہبی رسومات میں مزید اضافے کا باعث بنے۔ شاید یہ پورے یورپ میں ایک بڑے رجحان کا آغاز ہو جہاں مادیت کے مقابلے میں روحانیت دوبارہ اپنی جگہ بنائے گی۔ اگرچہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس سے سخت گیر سیکولر حلقوں کے ساتھ کچھ تناؤ پیدا ہو، لیکن چرچ کی جدید مکالمہ کرنے کی صلاحیت اسے ایک مثبت رخ دے سکتی ہے۔