ایکو کے لیے ایک اداس اختتام
بدھ کی رات، 23 ستمبر کو، والنسیا کے مشہور اوشنوگرافک (Oceanogràfic) مرکز نے تصدیق کی کہ ڈولفن 'ایکو' اب ہمارے درمیان نہیں رہی۔ ایکو کو کینیڈا سے اس امید کے ساتھ اسپین لایا گیا تھا کہ اسے ایک بہتر اور باعزت زندگی ملے گی۔
طبی ٹیم کی تمام تر کوششوں کے باوجود، ایکو کی صحت میں تیزی سے گراوٹ دیکھی گئی۔ اسے سانس لینے اور کھانا نگلنے میں شدید دشواری کا سامنا تھا، جس کی وجہ سے اسے فوری طور پر طبی پول میں منتقل کیا گیا، لیکن وہ اپنی زندگی کی جنگ ہار گئی۔ واضح رہے کہ ایکو کی طبی تاریخ پہلے ہی پیچیدہ تھی، اسے بصارت کے سنگین مسائل تھے جس کی وجہ سے اسے خاص توجہ اور دیکھ بھال کی ضرورت تھی۔
پس منظر: کینیڈا سے ریسکیو آپریشن
ایکو ان جانوروں کے گروپ کا حصہ تھی جنہیں اگست کے مہینے میں کینیڈا کے میرین لینڈ (Marineland) نامی ایک بند پارک سے ریسکیو کیا گیا تھا۔ اس آپریشن کا مقصد انہیں ایک بہتر ماحول فراہم کرنا تھا۔
تاہم، یہ تبدیلی آسان ثابت نہیں ہوئی۔ گزشتہ ہفتے اس گروپ کی ایک بیلوگا وہیل 'جیلی بین' کی بھی موت ہو گئی۔ اگرچہ دیگر چار جانوروں کی حالت بہتر ہے، لیکن یہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ برسوں تک ناقص حالات میں قید رہنے کے بعد سمندری ممالیہ جانور کتنے حساس اور دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔
سائنس کی تلاش: موت کی وجہ کیا تھی؟
یہ جاننے کے لیے کہ کیا یہ نقصان ناگزیر تھا یا کسی اور وجہ سے ہوا، ایک تفصیلی پوسٹ مارٹم (Necropsy) کیا جائے گا۔ یہ عمل اوشنوگرافک کے ماہرین اور سی ای یو کارڈینال ہیرا یونیورسٹی کے پیتھالوجی ماہرین کے تعاون سے مکمل کیا جائے گا۔
اس تحقیق سے یہ معلوم ہو سکے گا کہ آیا موت کی وجہ کینیڈا میں قید کے دوران پیدا ہونے والی کوئی بیماری تھی یا پھر سفر اور نئے ماحول میں ڈھلنے کے دوران پیدا ہونے والی پیچیدگیاں۔
مستقبل کے لیے سبق اور امکانات
اس واقعے کے بعد یہ امکان ہے کہ بند مراکز سے جانوروں کی منتقلی کے طریقہ کار پر نظرثانی کی جائے۔ ماہرین اس بات پر بحث کر سکتے ہیں کہ کیا سفر کا ذہنی دباؤ پہلے سے کمزور جانوروں کے لیے مناسب ہے یا نہیں۔
اس کے علاوہ، یہ متوقع ہے کہ کینیڈا کے میرین لینڈ پارک کے انتظام پر تنقید بڑھے گی اور شاید اس بات پر ایک گہری بحث شروع ہو کہ کیا دوسرے قید مراکز میں منتقل کرنا بہترین حل ہے، یا پھر انہیں قدرتی سمندری پناہ گاہوں (Sanctuaries) میں چھوڑنا زیادہ بہتر عمل ہے۔
مزید تفصیلات کے لیے آپ اصل خبر یہاں پڑھ سکتے ہیں: 20 Minutos