منیاپولس کا المیہ: انصاف کے لیے ایک نئی جدوجہد
منیاپولس شہر میں پیش آنے والا وہ واقعہ جس نے سب کو ہلا کر رکھ دیا تھا، اب دوبارہ عدالتی منظر نامے پر آگیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، 1 اکتوبر 2026 کو امریکی حکومت اور اعلیٰ حکومتی اہلکاروں کے خلاف دو سول مقدمات دائر کیے گئے ہیں۔ یہ مقدمات 37 سالہ رینی گڈ کی موت سے متعلق ہیں، جنہیں ان کی اپنی گاڑی کے اندر ہی گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔
واقعہ کیا تھا؟
تفصیلات کے مطابق، "آپریشن میٹرو سرج" (Operation Metro Surge) کے دوران، ICE (امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ) کے ایجنٹ جوناتھن روس نے رینی گڈ کی ایس یو وی (SUV) گاڑی پر تین گولیاں چلائیں۔ یہ گولیاں ان کے سر، بازو اور دھڑ میں لگیں جب وہ وہاں سے جانے کی کوشش کر رہی تھیں۔
اس کیس میں دو مختلف بیانات سامنے آئے ہیں۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ متاثرہ خاتون نے ایجنٹوں کو گاڑی سے کچلنے کی کوشش کی، لیکن ان کے ساتھی بیکا گڈ کی گواہی اور دستیاب ویڈیوز سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ رینی کوئی خطرہ نہیں تھیں اور ایجنٹ نے جان بوجھ کر گاڑی کے راستے میں رکاوٹ ڈالی۔
ملزمان کی فہرست
یہ مقدمات صرف گولی چلانے والے ایجنٹ تک محدود نہیں ہیں، بلکہ ان سیاسی رہنماؤں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے جنہوں نے ان سخت مہمات کی منصوبہ بندی کی:
| نام | عہدہ / کردار |
|---|---|
| اسٹیفن ملر (Stephen Miller) | وائٹ ہاؤس کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف |
| ٹام ہومین (Tom Homan) | وائٹ ہاؤس بارڈر زار (Border Czar) |
| کرسٹی نویم (Kristi Noem) | سابقہ سیکرٹری ہوم لینڈ سیکیورٹی |
| جوناتھن روس (Jonathan Ross) | ICE ایجنٹ (گولی چلانے والا) |
قانونی پیچیدگیاں اور انسانی حقوق
رینی گڈ کے اہل خانہ کی قانونی حکمت عملی کا مقصد انسانی حقوق کی منظم خلاف ورزیوں کو بے نقاب کرنا ہے। اس سلسلے میں درج ذیل نکات اہم ہیں:
وفاقی غفلت
وفاقی دعویٰ ایکٹ (Federal Claims Act) کے تحت ریاست کے خلاف مقدمہ دائر کیا گیا ہے۔
سازش کا الزام
1871 کے 'کو کلاکس کلان ایکٹ' کا حوالہ دیتے ہوئے الزام لگایا گیا ہے کہ صومالی اور ہسپانک کمیونٹیز کے شہری حقوق کی خلاف ورزی کی سازش کی گئی تھی۔
شفافیت کی کمی
پراسیکیوٹر میری موریارٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ وفاقی محکمہ انصاف نے اہم شواہد تک رسائی محدود کر دی ہے۔
اب تک وائٹ ہاؤس نے ان قانونی اقدامات کو "بے بنیاد" قرار دیا ہے اور کسی بھی ایجنٹ پر فوجداری مقدمہ نہیں چلایا گیا، باوجود اس کے کہ ایلکس پریٹی اور جولیو سوسا-سیلس جیسے دیگر متاثرین کے کیسز بھی سامنے آئے ہیں۔
ماخذ: IMAGO