امریکہ کی ریاست ٹینیسی میں ایک انتہائی ڈرامائی اور خوفناک موڑ آیا ہے جہاں موت کی سزا پانے والی قیدی کرسٹا پائک، زہریلے انجکشن کے باوجود زندہ بچ گئیں، لیکن اب وہ زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ اس واقعے نے امریکہ میں سزائے موت کے طریقہ کار اور طبی اخلاقیات پر ایک نئی قانونی بحث چھیڑ دی ہے۔

ایک ناکام پھانسی: طبی غلطی یا معجزہ؟

جس منظر کو ایک معمول کی قانونی کارروائی سمجھا جا رہا تھا، وہ ایک طبی ڈراؤنے خواب میں بدل گیا۔ کرسٹا پائیک، جنہیں دہائیوں پہلے موت کی سزا سنائی گئی تھی، اس انجکشن کے عمل سے بچ گئیں جسے حتمی ہونا چاہیے تھا۔

رپورٹس کے مطابق، انہیں پینٹوباربیٹل (Pentobarbital) کے دو مکمل ڈوز دیے گئے، بشمول 5 ملی گرام کی وہ مقدار جو عام طور پر انسانی جان لینے کے لیے کافی ہوتی ہے۔ لیکن حیرت انگیز طور پر، پائیک کی موت واقع نہیں ہوئی۔

کمرے کے اندر کا خوفناک منظر:

گواہوں نے بتایا کہ پہلے انجکشن کے ایک گھنٹے بعد بھی پائیک سانس لے رہی تھیں اور دم گھٹنے کی حالت میں ہوا کے لیے شدید جدوجہد کر رہی تھیں۔

طبی غفلت کی تفصیلات

دفاعی وکلاء نے ایک دل دہلا دینے والی صورتحال بیان کی ہے: ان کے بائیں بازو میں سات سوئیاں پیوست تھیں، جن میں سے ایک مڑی ہوئی تھی۔

ڈاکٹر جوئل زیوٹ نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ قیدی کی خون کی حالت (پلیٹلیٹس کی زیادتی) اور 30 سال تک تنہائی میں قید رہنے کی وجہ سے رگوں کی خرابی اس عمل کو انتہائی خطرناک بنا سکتی ہے۔

کیس کا خلاصہ

تفصیل معلومات
ملزم کرسٹا پائیک
جرم کولین سلیمر کا قتل (1995)
موجودہ حالت نازک / آئی سی یو
مقام ٹینیسی، امریکہ

کیا یہ پہلا واقعہ ہے؟

یہ واقعہ تنہا نہیں ہے، بلکہ امریکہ میں سزائے موت کے دوران ہونے والی تکنیکی غلطیوں کے سلسلے کی ایک کڑی ہے:

  • ٹونی کیروتھرز: رگوں میں انجکشن نہ لگ پانے کی وجہ سے ٹینیسی میں موت کی سزا سے بچ گئے۔
  • ایلن ملر اور کینتھ سمتھ: انجکشن کی ناکامی کے بعد الاباما میں نائٹروجن گیس کے ذریعے پھانسی دی گئی۔
  • رجحان: گزشتہ سال ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایات کے تحت 12 ریاستوں میں 47 افراد کو سزائے موت دی گئی۔

گورنر بل لی کے مداخلت کے بعد کارروائی روک دی گئی، لیکن نقصان ہو چکا ہے۔ اب انسانی حقوق کی کارکن ہیلن پریژن اور وکیل برائن اسٹیونسن مطالبہ کر رہے ہیں کہ ایسی غلطیاں سزائے موت کو ایک "ظالمانہ اور غیر معمولی سزا" بنا دیتی ہیں۔

ماخذ: IMAGO