سیاسی کشیدگی اور اعزازی تقریب
سپین کی سینیٹ میں ایک انتہائی اہم دن تھا جب خود مختار شہروں سیوٹا (Ceuta) اور ملیلہ (Melilla) کے صدور، خوان جیسس ویواس اور خوان خوسے امبرودا کو گولڈ میڈل سے نوازا گیا۔ یہ تقریب محض ایک سرکاری اعزاز نہیں تھی بلکہ نظریاتی جنگ کا میدان بن گئی، جہاں سپین کی داخلی سیاست کی تلخی واضح نظر آئی۔
سخت تنقید کا نشانہ
سینیٹ کے صدر پیڈرو رولان اور خوان خوسے امبرودا نے مرکزی حکومت کو ہجرت کے بحران سے نمٹنے میں ناکامی پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ امبرودا نے اسے "سپین کی جمہوری تاریخ میں ایک حکومت کی سب سے بڑی ناکامیوں میں سے ایک" قرار دیا اور سرحدوں کے دفاع میں لاپرواہی کا الزام لگایا۔
سیوٹا کے مطالبات
سیوٹا کے صدر خوان جیسس ویواس نے شہر میں معمولات بحال کرنے کے لیے چند اہم نکات پر زور دیا:
- ✔️ بڑے پیمانے پر واپسی: جولائی میں داخل ہونے والے افراد کی مراکش واپسی۔
- ✔️ یورپی تعاون: صحت، انصاف اور تعلیم میں یورپی یونین کی زیادہ موجودگی۔
- ✔️ سرحدی تحفظ: سپین اور یورپی یونین کے درمیان مربوط سخت سرحدی کنٹرول۔
- ✔️ خود مختاری: خود مختار شہروں کے فیصلے مراکش کی مرضی کے تابع نہ ہوں۔
ویواس نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مستقبل کی راہ ہمسایہ ملک (مراکش) کے ساتھ باہمی احترام کے تعلقات پر مبنی ہونی چاہیے۔
ماخذ: یہ معلومات سپین کی سینیٹ کے ادارتی ذرائع سے حاصل کی گئی ہیں۔