آسٹریلوی کھلاڑی جوانا ویٹزریک (Joanna Wietrzyk) نے چین میں ہائروکس (Hyrox) مقابلے میں پیشہ ورانہ زمرے میں پہلی پوزیشن حاصل کر کے تاریخ رقم کی، لیکن ان کی یہ جیت ایک غیر متوقع طبی حادثے کی وجہ سے تنازع کا شکار ہو گئی۔ ایک ایسی صورتحال جس نے ان کی کامیابی کو سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بنا دیا اور انہیں ایک مشکل فیصلہ کرنے پر مجبور کیا۔

کامیابی اور شرمندگی کے درمیان ایک باریک لکیر

تصور کریں کہ آپ اپنی زندگی کے سب سے بڑے مقابلے میں ہیں، ہر ایک قدم کے لیے اپنی پوری طاقت لگا رہے ہیں، اور اچانک آپ کا جسم آپ کا ساتھ چھوڑ دے۔ یہی وہ لمحہ تھا جس کا سامنا جوانا ویٹزریک کو بیجنگ میں کرنا پڑا۔

جوانا ہائروکس (Hyrox) کی ایک بہترین کھلاڑی ہیں، جو کہ ایک ایسا سخت کھیل ہے جس میں دوڑنے (Running) اور جسمانی ورزشوں (Functional Exercises) کا امتزاج ہوتا ہے۔ انہوں نے بے پناہ ہمت دکھاتے ہوئے فنش لائن کو پہلے نمبر پر عبور کیا، لیکن ان کی خوشی زیادہ دیر تک برقرار نہ رہ سکی۔

سوشل میڈیا پر کچھ ویڈیوز گردش کرنے لگیں جن سے معلوم ہوا کہ مقابلے کے دوران جوانا کو fecal incontinence (پاخانے پر قابو نہ رہنے) کا سامنا کرنا پڑا، جس کے باوجود وہ اپنی جیت کے جنون میں دوڑتی رہیں اور انہیں اس بات کا احساس نہ ہوا کہ ان کی صحت کی حالت خراب ہو چکی ہے۔

ہائروکس (Hyrox) کیا ہے؟

یہ ایک عالمی فٹنس مقابلہ ہے جس میں ایتھلیٹس کو 1 کلومیٹر دوڑنے کے بعد ایک مخصوص ورزش (جیسے کہ SkiErg یا Sled Push) کرنی ہوتی ہے، اور یہ عمل 8 بار دہرایا جاتا ہے۔

اصل مسئلہ کیا تھا؟

صرف ایک حادثہ ہونا مسئلہ نہیں تھا، بلکہ یہ بات زیادہ اہم تھی کہ جوانا نے اس حالت میں بھی ان آلات اور مشینوں کا استعمال جاری رکھا جو دوسرے کھلاڑی بھی استعمال کر رہے تھے، جس سے صحت اور صفائی (Hygiene) کے شدید خطرات پیدا ہوئے اور چین میں انتظامیہ اور کھلاڑیوں میں غم و غصہ پھیلا۔

سوشل میڈیا پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے بعد، جوانا نے چھپنے کے بجائے اپنی غلطی تسلیم کی۔ انہوں نے انسٹاگرام کے ذریعے ایک انتہائی عاجزانہ پیغام جاری کیا جس میں انہوں نے چینی عوام، اپنے حریف کھلاڑیوں اور منتظمین سے معافی مانگی۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ انہیں اس حالت میں ٹریک چھوڑ دینا چاہیے تھا۔

جوانا ویٹزریک کے لیے لیے گئے فیصلے

فیصلہ اثرات
پوزیشن کی واپسی انہوں نے باضابطہ طور پر اپنی پہلی پوزیشن سے دستبرداری اختیار کر لی۔
پوائنٹس کا خاتمہ اس جیت سے حاصل ہونے والے تمام پوائنٹس منسوخ کر دیے گئے۔
کھیلوں سے وقفہ انہوں نے سوچ بچار کے لیے کچھ عرصہ عوامی نظروں سے دور رہنے کا فیصلہ کیا۔

ایک عالمی سطح کے ایتھلیٹ کے لیے یہ ایک بہت بڑا دھچکا ہے، لیکن جیت سے دستبردار ہونے کا ان کا یہ عمل ان کی انسانیت اور اخلاقیات کو ظاہر کرتا ہے۔ کھیل صرف پسینے اور طاقت کا نام نہیں، بلکہ یہ انسانی کمزوریوں کو وقار کے ساتھ قبول کرنے کا نام بھی ہے۔

کیا آپ کے خیال میں ٹائٹل چھوڑنا درست تھا یا یہ صحت کے عوامی مسائل کے سامنے واحد باعزت راستہ تھا؟

ماخذ: The Guardian