ایک پرانی قانونی سزا جس نے تین دہائیوں تک ای ریک لارسن کے لیے برطانیہ کے دروازے بند رکھے تھے، اب ختم ہو چکی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک دستخط شدہ معافی نے لارسن کو دوبارہ ہیرس انگلش کے ساتھ گلف کے میدانوں میں اترنے کا موقع دے دیا ہے، جہاں سیاست اور کھیل ایک حیرت انگیز موڑ پر ملے ہیں۔

دوسرا موقع: ماضی کی زنجیریں ٹوٹ گئیں


کبھی کبھی ماضی انسان کا پیچھا آخری ہول تک کرتا ہے۔ ای ریک لارسن (Eric Larson)، جو پی جی اے (PGA) کے ایک پیشہ ور کیڈڈی ہیں، اس بات کو اچھی طرح جانتے تھے۔ تین دہائیوں پہلے منشیات کی اسمگلنگ کے ایک جرم کی وجہ سے انہیں 11 سال جیل میں گزارنے پڑے تھے، اور اگرچہ انہوں نے اپنی سزا پوری کر لی تھی، لیکن یہ داغ اب بھی ان کے پاس تھا۔

ایک بڑا مالی نقصان

گزشتہ سال، برطانیہ نے انہیں ملک میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی۔ جب ان کے کھلاڑی ہیرس انگلش (Harris English) نے برٹش اوپن میں چاندی کا تمغہ جیتا اور 1.8 ملین ڈالرز کی انعامی رقم حاصل کی، تو لارسن دور کھڑے یہ سب دیکھ رہے تھے۔ اس کی وجہ سے وہ اپنے پیشہ ورانہ حق کا 7% کمیشن کھو بیٹھے۔

معلوماتی نوٹ: کیڈڈی (Caddy) گلف میں وہ مددگار ہوتا ہے جو کھلاڑی کے لیے بیگ اٹھاتا ہے، کلب کا انتخاب کرنے میں مشورہ دیتا ہے اور میدان کی صورتحال کا تجزیہ کرتا ہے۔

لیکن کھیل اور سیاست میں حالات بدلتے رہتے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاملے میں مداخلت کی اور لارسن کو صدارتی معافی (Presidential Pardon) عطا کی۔ یہ کوئی کھیلوں کا ایوارڈ نہیں تھا، بلکہ ایک قانونی راستہ تھا تاکہ لارسن اب بغیر کسی خوف کے برطانوی زمین پر قدم رکھ سکیں اور ایئرپورٹ پر انٹرپول کے مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

شخصیت کردار مقصد
ای ریک لارسن PGA کیڈڈی برٹش اوپن میں واپسی
ہیرس انگلش پیشہ ور گلف کھلاڑی اپنے قابلِ اعتماد مددگار کی واپسی
ڈونلڈ ٹرمپ صدر امریکہ قانونی معافی فراہم کرنا

اگلا ہدف!

اب راستہ صاف ہو چکا ہے! لارسن اگلے سال اسکاٹش اوپن اور برٹش اوپن دونوں میں ہیرس انگلش کے ساتھ ہوں گے۔ اب انہیں صرف کھیل کے دباؤ کا سامنا کرنا ہوگا، نہ کہ اپنے پرانے قانونی ریکارڈ کا۔

ذریعہ: TMZ