کیمی انتونیللی کا عروج اور مرسڈیز کی جدوجہد
بحرین گرینڈ پری (Formula 1 کی ایک اہم ریس) نے یہ ثابت کر دیا کہ کیمی انتونیللی فارمولا 1 کی دنیا کا اگلا بڑا نام بن سکتے ہیں۔ اطالوی ڈرائیور نے مرسڈیز ٹیم کی جانب سے参赛 کرتے ہوئے گریڈ کی تیسری پوزیشن سے شروعات کی اور زبردست مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دوسری پوزیشن حاصل کی۔
انتونیللی کی اس کامیابی کا راز ان کی ابتدائی حکمت عملی میں چھپا تھا۔ ٹریک پر بدلتے ہوئے موسم اور ملی جلی صورتحال کے پیش نظر انہوں نے انٹرمیڈیٹ ٹائرز (ایسے ٹائرز جو ہلکی بارش اور خشک ٹریک دونوں کے لیے موزوں ہوتے ہیں) کا انتخاب کیا، جس کی بدولت وہ میکس ورسٹپن سے آگے نکلنے میں کامیاب رہے، اگرچہ ورسٹپن نے بالآخر پہلی پوزیشن حاصل کی۔
جارج رسل کے لیے مایوس کن دن
تاہم، مرسڈیز کے لیے یہ دن مکمل طور پر خوشیوں بھرا نہیں تھا۔ برطانوی ڈرائیور جارج رسل کے لیے یہ ریس ایک ڈراؤنے خواب کی طرح رہی۔ 50ویں لیپ (چکر) کے دوران ان کی گاڑی کے پاور یونٹ (گاڑی کا انجن اور بجلی کا نظام) میں خرابی پیدا ہوگئی، جس کے باعث انہیں ریس چھوڑنی پڑی۔ یہ سیزن میں کینیڈا کے بعد ان کی دوسری ایسی ناکامی ہے جہاں گاڑی تکنیکی خرابی کا شکار ہوئی۔
چیمپئن شپ کی موجودہ صورتحال
اس نتیجے کے بعد، انتونیللی نے ڈرائیورز چیمپئن شپ میں اپنی گرفت مزید مضبوط کر لی ہے اور وہ جارج رسل سے 84 پوائنٹس کی نمایاں برتری حاصل کر چکے ہیں۔
انتونیللی کا ردعمل
ریس کے بعد اطالوی اسٹار نے عاجزی کا مظاہرہ کیا اور چند اہم نکات پر بات کی:
- تکنیکی پائیداری: انہوں نے تسلیم کیا کہ ٹیم کو سال بھر تکنیکی مسائل کا سامنا رہا ہے۔
- کارکردگی: ان کا ماننا ہے کہ مرسڈیز کو ابھی بہت بہت کام کرنا باقی ہے۔
- ماضی کے تجربات: انہوں نے بارسلونا گرینڈ پری کا ذکر کیا جہاں وہ بھی پاور یونٹ کی خرابی کی وجہ سے ریس سے باہر ہو گئے تھے۔
ذریعہ: IMAGO