جولائی 2026 میں ابھرتی ہوئی منڈیوں (Emerging Markets) نے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کا اعتماد دوبارہ حاصل کر لیا۔ انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل فنانس (IIF) کے مطابق، پورٹ فولیو کے ذریعے 18.8 ارب ڈالر کی خالص سرمایہ کاری آئی، جو مئی اور جون میں ہونے والی بڑی سرمایہ کاری کی واپسی کو الٹ دیتی ہے۔ اس بحالی کی سب سے بڑی وجہ بانڈز (مقررہ آمدنی) کی مضبوط مانگ ہے۔

ابھرتی ہوئی منڈیوں کے لیے مثبت جولائی

انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل فنانس (IIF) کی رپورٹ، جو 11 اگست 2026 کو جاری ہوئی، کے مطابق بین الاقوامی سرمایہ کاروں نے جولائی کے دوران ابھرتی ہوئی منڈیوں پر دوبارہ اعتماد کا اظہار کیا۔ غیر ملکی سرمایہ کاروں نے مجموعی طور پر 18.8 ارب ڈالر کی خالص سرمایہ کاری کی، جو مئی اور جون میں ہونے والی بڑی سرمایہ کاری کی واپسی (43 ارب ڈالر سے زائد) کو الٹ دیتی ہے۔

بحالی کے اہم اعداد و شمار

اس بحالی کا سب سے بڑا محرک مقررہ آمدنی (بانڈز) تھا، جس نے 26.7 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری راغب کی۔ دوسری طرف، حصص (ایکوئٹی) سے سرمایہ کاری کی واپسی نمایاں طور پر کم ہوئی، جس میں صرف 7.8 ارب ڈالر کی واپسی ہوئی، جو جون میں 46 ارب ڈالر سے بھی زیادہ تھی۔

  • ایشیا: سب سے بڑی رکاوٹ بننے کے بعد اب سب سے زیادہ سرمایہ کاری حاصل کرنے والا خطہ بن گیا، جس نے 9.3 ارب ڈالر حاصل کیے۔
  • لاطینی امریکہ: 5.5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری راغب کی، جس میں قرضوں کا حصہ 5.9 ارب ڈالر تھا۔
  • خودمختار بانڈز کی جاری کردہ رقم: جولائی میں 19 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جو پچھلی دہائی کی اوسط سے دوگنا ہے۔

ارجنٹائن کے لیے خوشخبری اور آئندہ کے امکانات

ارجنٹائن کی اقتصادی ٹیم کے لیے، جس کی قیادت لوئس 'ٹوٹو' کاپوٹو کر رہے ہیں، یہ رپورٹ سازگار اشارہ دیتی ہے۔ ابھرتی ہوئی منڈیوں کے قرضوں کے فعال طور پر زیر انتظام فنڈز نے 2021 کے بعد پہلی بار خالص سرمایہ کاری حاصل کی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نئی سرمایہ کاری کی گنجائش موجود ہے، جس سے ارجنٹائن کے لیے سرمایہ منڈیوں تک دوبارہ رسائی کے دروازے کھل سکتے ہیں۔

تاہم، IIF کے ماہر معاشیات جوناتھن فارچیون نے خبردار کیا کہ یہ اشارہ مضبوط ہے لیکن مشروط ہے۔ ستمبر میں، ممکنہ شرح سود میں اضافے (فیڈرل ریزرو کی جانب سے)، ین کی مداخلت، اور عالمی جغرافیائی تناؤ جیسے عوامل 'کیری ٹریڈ' اور سرمایہ کاری کے بہاؤ کو ٹھنڈا کر سکتے ہیں۔

ماخذ: Ámbito, El Economista