ارجنٹائن کے سفیر فرنینڈو ایگلیسیاس نے معروف اخبار کلارین پر جولائی کی افراط زر کی شرح بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کا الزام لگایا ہے۔ ریڈیو مترے کے مطابق جولائی میں افراط زر 2.9 فیصد رہی جبکہ سالانہ مجموعی شرح 19.4 فیصد تک پہنچ گئی۔ اس تنازع نے اقتصادی اعداد و شمار کی ساکھ پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

ارجنٹائن میں اقتصادی اعداد و شمار پر ایک نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ 13 اگست 2026 کو، مصنف اور صحافی فرنینڈو اے ایگلیسیاس، جو اس وقت یورپی یونین، بیلجیم اور لکسمبرگ میں ارجنٹائن کے سفیر ہیں، نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک مختصر مگر تیز پیغام جاری کیا: “کلارین افراط زر کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے”۔

یہ پیغام آج 16:21 پر پوسٹ کیا گیا اور اس میں ریڈیو مترے کی ایک خبر کا لنک شامل تھا جس کا عنوان تھا: “جولائی میں افراط زر 2.9 فیصد رہی اور سال کے آغاز سے مجموعی شرح 19.4 فیصد تک پہنچ گئی”۔ ایگلیسیاس نے اس خبر کو شیئر کرتے ہوئے کلارین پر الزام لگایا کہ وہ اعداد و شمار کو مسخ کر رہا ہے۔

ایگلیسیاس کا الزام کیا ہے؟

ایگلیسیاس کے ٹویٹ کو اب تک 4,800 سے زائد بار دیکھا جا چکا ہے۔ انہوں نے کوئی تفصیل فراہم نہیں کی کہ اصل شرح کیا ہونی چاہیے، لیکن ان کا اشارہ واضح ہے: وہ سمجھتے ہیں کہ کلارین جان بوجھ کر افراط زر کی شرح کو بڑھا کر پیش کر رہا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار

ریڈیو مترے کی رپورٹ کے مطابق، جولائی میں افراط زر 2.9 فیصد رہی، جو پچھلے مہینوں کے مقابلے میں کم ہے۔ سال کے آغاز سے مجموعی افراط زر 19.4 فیصد ہے۔ تاہم، ان اعداد و شمار کی ابھی تک سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

سیاق و سباق: اعداد و شمار کی جنگ

ایگلیسیاس کا یہ الزام اس وقت سامنے آیا ہے جب ارجنٹائن میں افراط زر کی پیمائش پر شدید سیاسی اور میڈیا تنازع جاری ہے۔ حالیہ مہینوں میں، مختلف گروہوں نے INDEC (قومی ادارہ شماریات) کے طریقہ کار پر سوال اٹھائے ہیں، جبکہ کچھ میڈیا پر الزام ہے کہ وہ اعداد و شمار کو سنسنی خیز انداز میں پیش کرتے ہیں۔

ایگلیسیاس، جو ایک معروف کالم نگار اور مصنف بھی ہیں، موجودہ حکومت اور بعض بڑے میڈیا اداروں کے سخت ناقد رہے ہیں۔ ان کا یہ ٹویٹ کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں بلکہ ایک وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد بڑے اخبارات کی شائع کردہ اعداد و شمار کی ساکھ پر سوال اٹھانا ہے۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

اس پوسٹ پر مختلف ردعمل سامنے آئے ہیں۔ کچھ صارفین نے سفیر کی حمایت کی، جبکہ دوسروں نے ان سے مطالبہ کیا کہ وہ واضح کریں کہ ان کے مطابق صحیح شرح کیا ہے۔ اس رپورٹ کی اشاعت تک، کلارین یا ریڈیو مترے کی طرف سے کوئی سرکاری جواب نہیں آیا۔

یہ واقعہ معاشی اعداد و شمار پر عوام کے بڑھتے ہوئے عدم اعتماد کی عکاسی کرتا ہے، اور یہ موضوع آنے والے دنوں میں مزید گرما سکتا ہے۔