ارجنٹائن کی چیمبر آف ڈپٹیز کی خارجہ تعلقات کمیٹی نے بدھ کو مرکوسر اور سنگاپور کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے کی منظوری کی سفارش پر دستخط کیے۔ سینیٹ سے پہلے ہی جزوی منظوری مل چکی ہے، اب یہ معاہدہ قانون بننے سے صرف ایک قدم دور ہے اور ارجنٹائن اور پورے خطے کے لیے تجارت کا نیا باب کھول سکتا ہے۔

مرکوسر اور سنگاپور کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ ارجنٹائن کی کانگریس میں ایک اہم مرحلہ عبور کر گیا ہے۔ 12 اگست 2026 کو چیمبر آف ڈپٹیز کی خارجہ تعلقات اور مرکوسر کمیٹی نے اس معاہدے کی منظوری کی سفارش پر دستخط کیے، جبکہ سینیٹ پہلے ہی اسے جزوی منظوری دے چکی تھی۔ ارجنٹائن کے وزیر خزانہ پابلو کیرنو نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر اس پیش رفت کا اعلان کرتے ہوئے کہا: “صحیح سمت میں ایک اور قدم”۔

یہ معاہدہ کیا ہے؟

یہ مرکوسر کا پہلا آزاد تجارتی معاہدہ ہے جو کسی ایشیائی ملک کے ساتھ طے پایا ہے۔ سنگاپور، جو دنیا کی سب سے متحرک معیشتوں میں سے ایک ہے، جنوبی امریکی بلاک کا تجارتی شراکت دار بن گیا ہے۔ اس بلاک میں ارجنٹائن، برازیل، پیراگوئے اور یوروگوئے شامل ہیں۔ اس معاہدے کا مقصد محصولات اور تجارتی رکاوٹوں کو ختم کرنا ہے تاکہ اشیاء، خدمات اور سرمایہ کاری کا تبادلہ آسان ہو سکے۔

ارجنٹائن کے لیے یہ معاہدہ برآمدات کو متنوع بنانے اور اعلیٰ قوت خرید والی مارکیٹ تک رسائی کا موقع فراہم کرتا ہے۔ سنگاپور جنوب مشرقی ایشیا کا ایک اہم مالیاتی اور لاجسٹک مرکز ہے، جس کی فی کس جی ڈی پی 65,000 ڈالر سے زیادہ ہے (ورلڈ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق)۔

قانونی مراحل

  • سینیٹ: جزوی منظوری پہلے ہی مل چکی ہے۔
  • چیمبر آف ڈپٹیز: کمیٹی میں سفارش پر دستخط ہو چکے ہیں، اب اسے ایوان میں پیش کیا جائے گا۔
  • اگلا قدم: چیمبر آف ڈپٹیز کے مکمل اجلاس میں ووٹنگ۔

اگر ایوان میں منظوری مل جاتی ہے تو یہ معاہدہ حتمی توثیق کے لیے تیار ہو جائے گا اور اس کا نفاذ مرکوسر کے ہر رکن ملک کے اپنے اندرونی نظام الاوقات پر منحصر ہوگا۔

ردعمل اور پس منظر

کیرنو کے اعلان کو بیرونی تجارت کے حامی حلقوں نے سراہا ہے، جو اسے کھلے پن اور جدیدیت کی علامت سمجھتے ہیں۔ تاہم، کچھ تنقیدی آوازیں بھی ہیں جو مقامی پیداواری شعبوں جیسے ٹیکسٹائل اور الیکٹرانکس پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لینے کا مطالبہ کرتی ہیں، کیونکہ انہیں سنگاپوری مصنوعات سے مسابقت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

سنگاپور کے ساتھ یہ معاہدہ مرکوسر کی ایشیا کے ساتھ تعلقات بڑھانے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے۔ حالیہ برسوں میں، بلاک نے یورپی یونین جیسے دیگر شراکت داروں کے ساتھ بھی مذاکرات کیے ہیں، لیکن وہ عمل ابھی تک مکمل نہیں ہو سکا۔ سنگاپور، اس کے برعکس، پہلے ہی کئی ممالک کے ساتھ دوطرفہ معاہدے رکھتا ہے اور اسے پورے خطے کے لیے ایک گیٹ وے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

آگے کیا ہوگا؟

کمیٹی میں سفارش پر دستخط ایک بنیادی لیکن حتمی مرحلہ نہیں ہے۔ اس منصوبے پر چیمبر آف ڈپٹیز کے مکمل اجلاس میں بحث اور ووٹنگ ہوگی۔ اگر یہ منظور ہو جاتا ہے تو یہ قانون بن جائے گا اور انتظامیہ اس کی توثیق کر سکے گی۔ قومی حکومت نے پہلے ہی اپنی حمایت کا اظہار کیا ہے، اور توقع ہے کہ ایوان میں اس پر اگلے چند ہفتوں میں غور کیا جائے گا۔

اس دوران، ارجنٹائن کے برآمدی شعبے پر امید ہیں: سنگاپور نہ صرف 5.7 ملین آبادی والی مارکیٹ ہے بلکہ پورے ایشیا میں دوبارہ برآمد کا مرکز بھی ہے۔ گائے کا گوشت، شراب، دواسازی اور سافٹ ویئر خدمات جیسی مصنوعات کو نئے مواقع مل سکتے ہیں۔

یہ خبر خود پابلو کیرنو نے 12 اگست 2026 کو رات 10:06 بجے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر شیئر کی، اور یہ سیاسی اور اقتصادی حلقوں میں تیزی سے زیر بحث آ گئی۔

ذرائع: پابلو کیرنو کا ٹویٹر، چیمبر آف ڈپٹیز کی خارجہ تعلقات کمیٹی۔

متعلقہ