ارجنٹائن کی زرعی صنعتی کمپنی مولینوس ایگرو اور اے سی اے نے سانتا فے صوبے کے شہر تیمبویس میں 50 کروڑ امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔ یہ جدید سویابین پروسیسنگ پلانٹ 12 سال کی سرمایہ کاری کی خشک سالی کا خاتمہ کرے گا اور زرعی شعبے میں امید کی نئی کرن لائے گا۔

زرعی صنعت میں ایک انقلابی قدم

ارجنٹائن کی ایک بڑی زرعی صنعت کمپنی مولینوس ایگرو (Molinos Agro)، جو پیریز کمپینک (Pérez Companc) خاندان کی ملکیت ہے، نے اپنے برآمدی شعبے کو فعال بنانے کے لیے ایک بڑا قدم اٹھایا ہے۔ Argentine Cooperatives Association (ACA) کے ساتھ مل کر، کمپنی نے سانتا فے صوبے (Santa Fe) کے شہر تیمبویس (Timbúes) میں سویابین کو پروسیس کرنے کے لیے ایک نئی پلانٹ بنانے میں 50 کروڑ امریکی ڈالر (US$ 500 million) کی سرمایہ کاری کرنے کا معاہدہ کیا ہے۔

یہ نئی پلانٹ روزانہ 15,000 ٹن سویابین پروسیس کرنے کی صلاحیت رکھے گی، جو سالانہ تقریباً 50 لاکھ ٹن سویابین کی کھپت کے برابر ہے۔ اس منصوبے میں مولینوس ایگرو کی 65 فیصد شراکت ہوگی، جس سے یہ منصوبہ مزید مضبوط ہوگا۔

نئی پلانٹ کی اہم معلومات
  • سرمایہ کاری: 50 کروڑ امریکی ڈالر
  • مقام: تیمبویس، سانتا فے (ارجنٹائن)
  • صلاحیت: روزانہ 15,000 ٹن
  • سالانہ کھپت: 50 لاکھ ٹن سویابین
  • شراکت: مولینوس ایگرو (65%) اور ACA

بہترین مالی نتائج کی بدولت سرمایہ کاری

یہ سرمایہ کاری اس وقت ہو رہی ہے جب کمپنی کے مالی نتائج بہت مضبوط ہیں۔ مالی سال کے پہلے سہ ماہی (اپریل-جون 2026) میں، مولینوس ایگرو نے 45.961 ارب ارجنٹائنی پیسو کا خالص منافع کمایا، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 20 فیصد زیادہ ہے۔

سیلز سے آمدنی 1.078 ٹریلین پیسو تک پہنچ گئی، جبکہ آپریٹنگ منافع 65.838 ارب پیسو رہا، جو پچھلے سال سے 25 فیصد بہتر ہے۔ برآمدات نے اس میں اہم کردار ادا کیا، جس میں 952.801 ارب پیسو غیر ملکی منڈیوں سے آئے۔

12 سال بعد زرعی شعبے میں نئی امید

گرین مارکیٹ کے ماہر خاویر پریسیاڈو پاٹینو (Javier Preciado Patiño) کے مطابق، اس سرمایہ کاری کی ایک بڑی تاریخی اہمیت ہے کیونکہ ارجنٹائن میں سویابین کے شعبے میں 12 سال تک کوئی بڑی سرمایہ کاری نہیں ہوئی تھی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پچھلے دس سالوں میں سویابین کی کاشت کم ہو گئی کیونکہ حکومت نے اس پر دوسری فصلوں کے مقابلے میں زیادہ برآمدی ٹیکس (Retenciones) لگایا تھا۔ اس ٹیکس کا فرق مکئی کے مقابلے میں 30 فیصد تک تھا، جس کی وجہ سے کسانوں نے مکئی کاشت کرنا شروع کر دیا۔ سویابین کی کاشت کا رقبہ 20.5 ملین ہیکٹر سے کم ہو کر 16 ملین ہیکٹر رہ گیا تھا، جبکہ مکئی کا رقبہ 10.6 ملین ہیکٹر تک پہنچ گیا۔

سویابین کی بحالی کا آغاز

اب حالات بہتر ہو رہے ہیں۔ جنوری 2027 سے سویابین پر ٹیکس میں کمی کی توقع ہے۔ روزاریو بورڈ آف ٹریڈ (BCR) کی پیش گوئی کے مطابق، اگلے سیزن میں سویابین مکئی سے 6 لاکھ ہیکٹر رقبہ واپس لے گی، جس سے اس کا کل رقبہ 17 ملین ہیکٹر تک پہنچ جائے گا۔

مکئی کو نقصان پہنچانے والے کیڑے 'چیچریٹا' (Chicharrita) کی موجودگی اور مال برداری کے بڑھتے ہوئے اخراجات بھی کسانوں کو سویابین کی طرف مائل کر رہے ہیں۔ برآمدی ٹیکس کا فرق اب کم ہو کر 15.5 فیصد رہ گیا ہے اور امید ہے کہ 2028 تک یہ 9.5 فیصد تک کم ہو جائے گا۔

ارجنٹائن کی معیشت میں زراعت کا کردار

ماہر معاشیات ڈیوڈ میاتزو کے مطابق، جنوری سے جون کے دوران زرعی اور زرعی صنعتی شعبوں نے ارجنٹائن کی غیر ملکی آمدنی کا 72 فیصد حصہ ڈالا، جو 19.246 ارب ڈالر کے برابر ہے۔ جولائی میں برآمدی ٹیکس سے 1.2 ٹریلین پیسو کی وصولی ہوئی، جو جون کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ہے۔

تاہم، صنعت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ارجنٹائن کو بائیو ایندھن (Biofuels) کے شعبے میں برازیل سے مقابلہ کرنے کے لیے قانون سازی میں تیزی لانی ہوگی۔ سی آئی اے آر اے-سی ای سی (CIARA-CEC) کے صدر گستاوو ایدیگوراس نے خبردار کیا ہے کہ ارجنٹائن کو مستقبل کی توانائی کے لیے بہتر قوانین بنانے ہوں گے تاکہ ملک پیچھے نہ رہ جائے۔

تیمبویس میں یہ بڑی سرمایہ کاری اور ٹیکس میں توازن کے ساتھ، ارجنٹائن کی سویابین کی صنعت اپنی تاریخ کے ایک نئے، روشن اور امید افزا باب کی طرف بڑھ رہی ہے۔