ارجنٹائن کی معیشت کے لیے 3 ستمبر 2026 کا دن اہم رہا، جب ملکی رسک پریمیم (خطرے کی شرح) اپنی تاریخی کم ترین سطح پر پہنچ گیا۔ یہ شرح، جو جے پی مورگن بینک کے مرتب کردہ انڈیکس کے مطابق ناپی جاتی ہے، 491 بیسس پوائنٹس تک گر گئی۔ اس کا مطلب ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں میں ارجنٹائن کے قرضے لینے کی لاگت میں نمایاں کمی آئی ہے۔
رسک پریمیم کا یہ انڈیکس اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سرمایہ کار ارجنٹائن کی معیشت پر کتنا بھروسہ کرتے ہیں۔ کم شرح کا مطلب ہے کہ ملک پر اعتماد بڑھ رہا ہے۔ یہ سطح پچھلے ایک عشرے سے زائد عرصے میں نہیں دیکھی گئی تھی۔
ڈالر کی منڈی: استحکام کے ساتھ معمولی اتار چڑھاؤ
زر مبادلہ کی منڈی میں، ہول سیل ڈالر (تھوک کی شرح) 1,508 پیسوس پر بند ہوا، جو لگاتار تیسری کمی ہے۔ اس ہفتے کے دوران اس میں 0.3 فیصد کی کمی ہوئی۔ دوسری طرف، بلیو ڈالر (غیر سرکاری شرح) میں 5 پیسوس کا اضافہ ہوا اور یہ 1,540 پیسوس تک پہنچ گیا۔
سرکاری بینک (بینک آف دی نیشن) میں صارفین کے لیے ڈالر کی شرح 1,530 پیسوس رہی۔ جبکہ ڈالر کارڈ (جس میں ٹیکس شامل ہے) 1,989 پیسوس پر فروخت ہوا۔
مختلف اقسام کے ڈالر کی شرحیں درج ذیل ہیں:
| ڈالر کی قسم | شرح (پیسوس) |
|---|---|
| ہول سیل (تھوک) | 1,508 |
| بلیو (غیر سرکاری) | 1,540 |
| صارفین (ریٹیل) | 1,530 |
| کارڈ (ٹیکس سمیت) | 1,989 |
| MEP (اسٹاک ایکسچنج) | 1,525.39 |
| CCL (کنٹیڈو کنورژن) | 1,592.43 |
مرکزی بینک کی ذخائر میں اضافے کی حکمت عملی
ارجنٹائن کا مرکزی بینک (BCRA) بین الاقوامی ذخائر کو مضبوط کرنے کے لیے مسلسل ڈالر خرید رہا ہے۔ جمعرات کو اس نے 15 ملین ڈالر خریدے، جبکہ بدھ کو 28 ملین ڈالر خریدے گئے تھے۔ ستمبر کے پہلے دو دنوں میں کل خریداری 43 ملین ڈالر بنتی ہے۔
مرکزی بینک کے مجموعی ذخائر اب 50.8 بلین ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ اگست کے مہینے میں بھی بینک نے 768 ملین ڈالر خریدے تھے، جو جولائی کے مقابلے میں کم تھے لیکن پھر بھی مثبت رجحان کو ظاہر کرتے ہیں۔
بانڈز اور اسٹاک مارکیٹ: تیزی کے ساتھ منافع کی وصولی
سرکاری بانڈز میں تیزی کا سلسلہ جاری رہا، تاہم کچھ سرمایہ کاروں نے منافع کی وصولی (profit-taking) بھی کی۔ اسٹاک مارکیٹ کا مرکزی انڈیکس S&P Merval میں 1.5 فیصد کی کمی ہوئی۔
ایک دن کی قلیل مدتی قرضے کی شرح (caución rate) کم ہو کر 19 فیصد ہو گئی ہے، جو ایک ماہ قبل 28 فیصد تھی۔ اس کمی کا مقصد معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے۔
مہنگائی اور ڈالر کی مستقبل کی پیشن گوئی
ماہرین کے مطابق اگست کی مہنگائی 1.4 سے 1.8 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے، جو قیمتوں میں اضافے کی رفتار میں کمی کی نشاندہی کرتی ہے۔
ڈالر کی مستقبل کی شرح (فیوچرز) کے مطابق، ستمبر کے آخر تک ہول سیل ڈالر 1,528 پیسوس اور سال کے آخر تک 1,609-1,610 پیسوس ہونے کا امکان ہے۔ مرکزی بینک کے سروے (REM) کے مطابق دسمبر 2026 تک ڈالر 1,652 پیسوس تک پہنچ سکتا ہے۔
مستقبل کے چیلنجز
ماہرین کے مطابق، 2027 کے انتخابات، بڑے تجارتی شراکت داروں (برازیل، چین، یورپی یونین، امریکہ) کی کرنسیوں کی صورتحال، اور عالمی مہنگائی جیسے عوامل ڈالر کی شرح پر دباؤ ڈال سکتے ہیں۔
تاہم، مجموعی طور پر مارکیٹ میں مثبت رجحان ہے۔ رسک پریمیم کم ترین سطح پر ہے، ڈالر مستحکم ہے، اور مرکزی بینک ذخائر میں اضافہ کر رہا ہے۔ اگر یہ رجحان برقرار رہا تو آنے والے مہینوں میں معیشت میں مزید بہتری آ سکتی ہے۔