جرمنی میں اس وقت رہائشی مکانات کی شدید قلت ہے، جس کی وجہ سے کرایے آسمان کو چھو رہے ہیں۔ لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ سرمایہ کار نئے گھر بنانے سے کتراتے ہیں کیونکہ تعمیراتی لاگت بہت بڑھ چکی ہے اور منافع کم ہو گیا ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ کس طرح بیوروکریسی اور مہنگائی نے عام آدمی کے لیے گھر ڈھونڈنا مشکل بنا دیا ہے۔

حساب کتاب: نئے گھر کیوں نہیں بن رہے؟

سادہ الفاظ میں، کسی بھی سرمایہ کار کے لیے حکومت کے بانڈز میں پیسہ لگانے کے بجائے تعمیرات میں سرمایہ کاری کرنا تب فائدہ مند ہوتا ہے جب اسے سالانہ کم از کم 4% منافع ملے۔ لیکن جرمنی کی موجودہ رہائشی مارکیٹ کی صورتحال مختلف ہے۔

تفصیل حقیقت / اعداد و شمار جیب پر اثر
تعمیراتی لاگت €4,500 - €5,000 / مربع میٹر تعمیرات اتنی مہنگی ہیں کہ انہیں €3,000 تک لانا ضروری ہے۔
مزدوری (Labor) 10 سالوں میں +65% اضافہ مزدوروں کی اجرتیں کرایوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے بڑھی ہیں۔
منافع کی شرح 3.25% - 3.5% یہ مطلوبہ 4% سے کم ہے، اس لیے سرمایہ کار پیچھے ہٹ رہے ہیں۔
کرایے کی حد €20 / مربع میٹر اگر مالک اس سے زیادہ مانگے تو کرایہ دار گھر چھوڑ دیتے ہیں، جس سے منافع محدود ہو جاتا ہے۔

حل کیا ہو سکتا ہے؟

اس بحران کو ختم کرنے کے لیے تین اہم راستوں پر غور کیا جا رہا ہے:

  • سرکاری سبسڈی: حکومت سماجی گھروں اور توانائی کی بچت (Energy Efficiency) کے لیے فنڈز فراہم کرے تاکہ حساب برابر ہو سکے۔
  • تکنیکی معیار میں کمی: تعمیراتی معیار میں تھوڑی کمی (مثلاً فرش کی موٹائی 18 سینٹی میٹر سے 14 سینٹی میٹر کرنا) تاکہ لاگت کم ہو سکے۔
  • 'E' ٹائپ بلڈنگز: ایک نیا تعمیراتی ماڈل جو موجودہ معاشی حالات کے مطابق ہو تاکہ گھروں کی سپلائی بڑھائی جا سکے۔

ماہرین کا تجزیہ

جب پیداواری لاگت (مزدوری اور مواد) کرایوں کے مقابلے میں تیزی سے بڑھتی ہے، تو نئی تعمیرات رک جاتی ہیں۔ جرمنی میں مارکیٹ اس مقام پر پہنچ گئی ہے جہاں مالک مکان مزید بوجھ کرایہ دار پر نہیں ڈال سکتا۔

حتمی رائے: توقع ہے کہ کرایوں میں جلد کمی نہیں آئے گی۔ اندازہ ہے کہ اگلے دو سالوں میں ہی تعمیراتی آرڈرز میں دوبارہ اضافہ دیکھا جا سکتا ہے۔

بنیاد: Faz.net - Iris Schöberl کے ساتھ انٹرویو