44 ملاحوں کے لیے انصاف کی تلاش

ارجنٹینا کی عدالت نے پیر 22 جون 2026 کو اس سماعت کو دوبارہ شروع کیا جو ملک کی جدید تاریخ کے سب سے دلخراش واقعات میں سے ایک ہے۔ ARA San Juan نامی آبدوز 15 نومبر 2017 کو ڈوبنے سے 44 ملاح اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

ارجنٹینا کے جنوبی شہر کومودورو ریواداویا میں فیڈرل کورٹ نے پراسیکیوٹرز کے دلائل سننے شروع کر دیے۔ یہ شہر پیٹاگونیا خطے میں واقع ہے جو اپنے تیل کے ذخائر کے لیے مشہور ہے۔

ملزمین اور ان کی ذمہ داریاں

چار اعلیٰ بحری افسران پر غیر ارادی قتل کا الزام ہے۔ یہ قانونی اصطلاح اس صورت حال کو بیان کرتی ہے جب کوئی قتل کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا لیکن عدم احتیاطی کی وجہ سے موت واقع ہوتی ہے۔

ملزمعہدہ
لوئس اینریک لوپیز مازیوبحریہ کی تربیتی کمان کے سربراہ
کلاڈیو خاویر ولاامیڈآبدوز فورس کے کمانڈر
ہوگو کوریاآپریشنز ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ
ہیکٹر انیبال الونسوآبدوز فورس کے چیف آف اسٹاف

سانحہ: واقعات کا تسلسل

آبدوز 25 اکتوبر 2017 کو مار ڈیل پلاتا بحری اڈے سے روانہ ہوئی۔ یہ شہر ارجنٹینا کے مشرقی ساحل پر واقع ہے اور ملک کا اہم بندرگاہی شہر ہے۔

11 نومبر 2017 کو یہ اوشیانیا (دنیا کا سب سے جنوبی شہر) سے گشتی کے لیے روانہ ہوئی۔ 14 نومبر کو رات کو سمندری پانی بجلی کی بیٹریوں میں داخل ہوا جس سے آگ لگ گئی۔

15 نومبر 2017 صبح 10:51 بجے آبدوز 907 میٹر کی گہرائی میں دب گئی۔ اسے 17 نومبر 2018 کو پایا گیا۔

تکنیکی خامیاں

پراسیکیوٹر زاری نے تفصیل سے واضح کیا:

  • آبدوز نے 26 مہینے تک مطلوبہ مرمت سے تجاوز کی
  • 2015 میں کی گئی مرمت کے بعد کئی خامیاں موجود تھیں
  • کمانڈر فرنانڈیز نے ولاامیڈ کو تکنیکی مسائل کی اطلاع دی
  • ڈوبنے سے ایک ماہ پہلے مرمت کی درخواست غیر موثر رہی
  • کئی نظام ناکارہ تھے جو حفاظت پر اثر انداز ہوتے تھے

عدالتی کارروائی

پراسیکیوٹر گاستون فرانکو پرزان نے دلائل پیش کرنا شروع کیے۔ جج ماریو رینالدی کی صدارت میں چار ججوں کی بینچ سن رہی ہے۔

ارجنٹینا میں فوجی افسران پر عام شہری عدالتوں میں مقدمہ چلانے کی تاریخ اہم ہے کیونکہ ماضی میں فوجی عدالتیں الگ ہوتی تھیں۔

44 شہید ملاح

یہ مقدمہ 44 خاندانوں کو انصاف دلانے کی کوشش ہے جو اپنے پیاروں کو کھو چکے ہیں۔ ارجنٹینا کی عدالتی نظام ان کے لیے سچائی سامنے لانے کی کوشش کر رہا ہے۔