30/07/2026 21:04 - Internacionales
شہر خود مختار سیوٹا، جو شمالی افریقہ میں واقع ایک اسپینی علاقہ ہے، ایک نئے امیگریشن چیلنج کا سامنا کر رہا ہے۔ Infobae اور The New York Times کے مطابق، پچھلے پانچ دنوں میں تقریباً 2000 تارکین وطن مراکش سے تیر کر پہنچے، جو روزانہ اوسطاً 300 افراد ہیں۔
اس صورتحال کے پیش نظر، مقامی صدر خوان جیسوس ویواس نے انسانی ہنگامی صورتحال کا اعلان کیا اور لوگوں کی مدد اور علاقے کی حفاظت کے لیے فوج کی تعیناتی کی درخواست کی۔ اسپین کی حکومت نے فوری طور پر جواب دیتے ہوئے فوجی دستے، فضائی اور بحری مدد، اور غوطہ خوری کی ٹیمیں متحرک کیں تاکہ پانیوں میں گشت کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ، یورپی یونین نے سرحدی ایجنسی فرونٹیکس کو بھیجنے کی پیشکش کی تاکہ آپریشن میں تعاون کیا جا سکے۔
قانونی سیاق و سباق: یہ بحران اسپین کی سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد پیدا ہوا جس نے سمندر میں گرم واپسی (devoluciones en caliente) پر پابندی لگا دی۔ وزارت داخلہ کے مطابق، اس فیصلے کا فائدہ انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس نے اٹھایا۔ اب تک 60 لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں، جو بحیرہ روم میں محفوظ راستوں اور جانوں کو بچانے کی فوری ضرورت کو ظاہر کرتی ہیں۔
اس واقعے کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے سیوٹا کی تاریخ جاننا ضروری ہے۔ La Capital کے تجزیے کے مطابق، سیوٹا اور میلیلا ایک دلچسپ جغرافیائی تضاد ہیں: یہ افریقی سرزمین پر اسپین اور یورپ کا علاقہ ہیں۔ سیوٹا صرف 18.5 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے اور اس کی آبادی 83,500 ہے۔ اس کی مراکش کے ساتھ 6.4 کلومیٹر طویل زمینی سرحد ہے اور یہ یورپی یونین کا افریقہ سے واحد زمینی رابطہ ہے۔
ان شہروں میں اسپین کی موجودگی جدید مراکشی ریاست کے قیام سے پہلے کی ہے۔ میلیلا پر 1497 میں قبضہ کیا گیا، جبکہ سیوٹا پر پرتگال نے 1415 میں قبضہ کیا اور 1580 میں یہ اسپین کے قبضے میں آیا۔ 1668 کے معاہدہ لزبن نے سیوٹا پر اسپین کی خودمختاری کو رسمی شکل دی۔ دیگر علاقوں کے برعکس، اقوام متحدہ انہیں کالونیاں نہیں مانتا اور نہ ہی انہیں ڈی کالونائزیشن کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے، اور ان کے باشندوں کو مکمل اسپینی اور یورپی شہریت حاصل ہے۔
Alfredo S. Quiroga