غزہ میں اجتماعی جنازہ: 2023 کے حملے کی 112 لاشوں کی تدفین، امن کی امید باقی ہے
ایک غیر ملکی قاری کے لیے سیاق و سباق: غزہ کی پٹی، بحیرہ روم کے ساحل پر واقع ایک چھوٹا سا علاقہ ہے جہاں تقریباً 20 لاکھ فلسطینی رہتے ہیں۔ یہ خطہ برسوں سے تنازعے کا شکار ہے، لیکن حالیہ جنگ بندی نے امید کی کرن پیدا کی ہے۔
ذرائع کے مطابق، جیسا کہ The Guardian نے اطلاع دی ہے، اس ہفتے غزہ کے مرکز میں سینکڑوں افراد اپنے پیاروں کو آخری بار دیکھنے کے لیے جمع ہوئے۔
نومبر 2023 کا المناک حملہ
22 نومبر 2023 کو، اسرائیلی جنگی طیاروں نے غزہ شہر میں ایک رہائشی بلاک کو تباہ کر دیا، جس سے 300 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے۔ اس وقت، مقامی لوگوں نے بنیادی آلات اور اپنے ہاتھوں سے ملبے میں سے صرف 40 لاشیں نکالیں۔
گزشتہ ہفتے کے آخر میں، غزہ کی سول ڈیفنس نے منہدم اپارٹمنٹ بلاک میں کھدائی کی اور 112 متاثرین کی لاشیں برآمد کیں، جن میں خواتین اور 40 بچے بھی شامل ہیں۔ اس حملے میں اب بھی 157 افراد لاپتہ ہیں۔
جنگ بندی کا مثبت اثر
اکتوبر میں قائم ہونے والی جنگ بندی نے امدادی کارکنوں کو ملبے میں تلاش کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ غزہ کی وزارت صحت کے ریکارڈز کے سربراہ ظاہر الوحیدی کے مطابق، کم از کم 7,400 افراد کو ان کے اہل خانہ نے اب بھی ملبے تلے دفن بتایا ہے۔ تاہم، حقیقی تعداد اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ ان لاشوں کی بازیابی اور باوقار تدفین خاندانوں کو سکون فراہم کر رہی ہے اور امن کی امید کو برقرار رکھتی ہے۔
تنازعے کے اعداد و شمار
- 73,000+ فلسطینی 7 اکتوبر 2023 سے ہلاک ہو چکے ہیں۔
- 1,250+ اکتوبر کی جنگ بندی کے بعد ہلاک ہوئے۔
- 1,200 اسرائیلی 7 اکتوبر 2023 کے حملے میں ہلاک ہوئے۔
- 251 یرغمال بنائے گئے تھے۔
موجودہ صورتحال
جنگ بندی کی دوسری مرحلے کو مستحکم کرنے کے معاہدے کے باوجود، گزشتہ ہفتے کم از کم 26 فلسطینی اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہوئے۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے کو 'تاریخی معاہدہ' قرار دیا تھا۔
بین الاقوامی موقف اور امن کی امید
اقوام متحدہ کی ایک کمیشن، ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ غزہ میں نسل کشی ہوئی ہے۔ جون میں، اقوام متحدہ کے کمیشن نے بتایا کہ اسرائیلی افواج نے فلسطینی بچوں کو جان بوجھ کر ہلاک کیا۔
جنگ بندی کی دوسری مرحلے کے لیے بات چات اب بھی جاری ہے۔ حماس کے عہدے داروں نے اپنے اسلحے کی بازیابی اسرائیلی انخلا پر منحصر کی ہے، جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کی 'سخت سیکیورٹی خدشات' ہیں۔
غزہ کی پٹی کا زیادہ تر حصہ کھنڈر میں تبدیل ہو چکا ہے، لیکن انسانی ہمدردی اور تعمیر نو کی امید باقی ہے۔ اس کے 20 لاکھ باشندے بے گھر ہو چکے ہیں اور خیموں میں رہ رہے ہیں، لیکن وہ ایک بہتر اور پرامن مستقبل کے منتظر ہیں۔