ہیٹی کمیونٹی کے لیے نیا دور
برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق، 7 اگست 2026 کو ڈسٹرکٹ جج انا رئیس نے تصدیق کی کہ ان کا حکم جو ہیٹی کے لیے عارضی تحفظ کی حیثیت (TPS) کے خاتمے کو روک رہا تھا، اب نافذ نہیں ہے۔ اس سے 300,000 سے زائد ہیٹی شہریوں کے مستقبل پر غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے جو امریکہ میں قانونی طور پر رہائش پذیر اور کام کر رہے تھے۔ تاہم، یہ صورتحال کمیونٹی کو نئے قانونی راستے تلاش کرنے اور کانگریس کی حمایت حاصل کرنے پر بھی آمادہ کر رہی ہے۔
عارضی تحفظ کی حیثیت (TPS) کیا ہے؟
TPS ایک پروگرام ہے جو امریکی کانگریس نے 1990 میں بنایا تھا تاکہ ان افراد کو تحفظ دیا جا سکے جو اپنے ملک میں قدرتی آفت، مسلح تصادم یا غیر معمولی حالات کے دوران امریکہ میں موجود ہوں۔ یہ حیثیت انہیں کام کے اجازت نامے اور جلاوطنی سے تحفظ فراہم کرتی ہے۔ ہیٹی کو یہ درجہ 2010 کے زلزلے کے بعد ملا تھا، اور مستفید ہونے والوں نے 2001 سے اب تک امریکی معیشت میں تقریباً 262 ارب ڈالر کا حصہ ڈالا ہے۔
معاشی اور سماجی اثرات
TPS ہولڈرز سالانہ 7.8 ارب ڈالر ٹیکس کی صورت میں ادا کرتے ہیں۔ ان میں سے اکثر تعمیرات اور بزرگوں کی دیکھ بھال جیسی اہم صنعتوں میں کام کرتے ہیں۔ ان مزدوروں کے جانے سے ان شعبوں پر منفی اثر پڑے گا جن میں پہلے ہی مزدوروں کی کمی ہے، جو اس کمیونٹی کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔
حالیہ قانونی پس منظر
25 جون 2026 کو امریکی سپریم کورٹ نے ایک فیصلہ سنایا جس نے TPS کے فیصلوں پر عدالتی نظرثانی کو مشکل بنا دیا۔ وزیر داخلہ مارک وین ملن نے کہا کہ لوگ 'خود کو جلاوطن کر سکتے ہیں یا گرفتار کیے جا سکتے ہیں'، تاہم کمیونٹی قانونی حل پر امید ہے۔
امید کی کرن: قانونی راستہ
چیلنجز کے باوجود، ہیٹی کمیونٹی اور ان کے حامی امید پر ہیں۔ اپریل 2026 میں امریکی ایوان نمائندگان نے TPS کو قانونی طور پر بڑھانے کی تجویز منظور کی تھی۔ اب سینیٹ کی باری ہے، جس کے پاس ان تارکین وطن کی حفاظت کا موقع ہے جنہوں نے اپنی زندگیاں، خاندان بنائے ہیں اور کئی دہائیوں سے ملک میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔
ماخذ: دی گارڈین، USCIS