تھائی لینڈ میں اسکول فائرنگ: 8 افراد ہلاک
ایک عام صبح المناک سانحے میں بدل گئی جب 7 اگست 2026 کو بنکاک کے شمال مغرب میں واقع نونتھابوری صوبے میں ایک 14 سالہ نوجوان نے ڈیبسرین نونتھابوری اسکول میں فائرنگ کر دی۔ اس واقعے میں 8 افراد ہلاک اور 30 سے زائد زخمی ہوئے، جیسا کہ دی گارڈین نے رپورٹ کیا۔
واقعے کی تفصیلات
مقامی پولیس کے مطابق، ملزم نوجوان نے پہلے اپنے گھر پر اپنے دادا دادی کو قتل کیا۔ اس کے بعد وہ اپنے دادا کی بندوق لے کر اسکول پہنچا، جہاں اس نے فائرنگ شروع کر دی۔ اسکول میں 5 افراد کو ہلاک کرنے کے بعد اس نے خودکشی کر لی، جس سے کل 8 اموات ہوئیں۔
حملہ آور نے کم از کم 26 گولیاں چلائیں اور اس کے پاس 34 اضافی کارتوس پائے گئے۔ تھائی لینڈ کی وزارت صحت کے مطابق، 30 سے زائد افراد زخمی ہوئے، جن میں سے 9 کی حالت تشویشناک ہے۔ حکام نے تقریباً آدھے گھنٹے میں صورتحال پر قابو پا لیا اور طلبہ و اساتذہ کو بحفاظت نکال لیا۔
اساتذہ کی شہادتیں
اسکول کے انگریزی استاد پرومپونگ نام وونگ نے بتایا کہ جب دوسری کلاس کا ایک طالب علم چھپنے کی جگہ تلاش کرتا ہوا داخل ہوا تو کمرے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ انہوں نے کہا، "میں نے سوچا کہ میں مر جاؤں گا، اس میں کوئی شک نہیں۔" انہیں بعد میں پولیس نے بحفاظت نکال لیا۔ آرٹ کی استاد پچانن تھیانگ تھام نے فائرنگ کی آوازیں سن کر زخمی طلبہ کو ابتدائی طبی امداد کے لیے منتقل کیا، جو مشکل وقت میں بڑی ہمت کا مظاہرہ تھا۔
تبدیلی کا عزم
قومی غم کے پیش نظر، تھائی لینڈ کے وزیر اعظم انوتھن چارن ویراکول نے اسلحہ کنٹرول کے نئے قوانین متعارف کرانے کا وعدہ کیا۔ تجویز کے مطابق، صرف سرکاری ملازمین ہی اسلحہ رکھ سکیں گے، حالانکہ تفصیلی شرائط ابھی طے نہیں ہوئیں۔ یہ قدم معاشرے کے لیے امید کی کرن ہے جو زیادہ تحفظ کا مطالبہ کر رہا ہے۔
تھائی لینڈ میں جنوب مشرقی ایشیا میں شہری اسلحہ رکھنے کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ ماہرین جیسے پییاپورن تھونی کول، جو ناکھون پاتھوم کی راجابات یونیورسٹی میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں، کہتے ہیں کہ لائسنس سسٹم میں ذہنی صحت کی تشخیص اور باقاعدہ دوبارہ جائزہ شامل نہیں ہے۔ حکومت اس پر نظر ثانی کرنا چاہتی ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات روکے جا سکیں۔
اسکول کا پس منظر
ڈیبسرین نونتھابوری اسکول ڈیبسرین نیٹ ورک کا حصہ ہے، جسے تھائی شاہی خاندان نے قائم کیا تھا۔ اس کی کمیونٹی میں ممتاز سابق طلبہ شامل ہیں، جن میں وزرائے اعظم اور ماہرین تعلیم بھی شامل ہیں۔ درد کے باوجود، تعلیمی کمیونٹی اور پورا ملک اس مشکل وقت سے نکلنے اور مستقبل کی نسلوں کے لیے محفوظ ماحول کو یقینی بنانے کے لیے متحد ہے۔