ماخذ: دی گارڈین - 7 اگست 2026
وقت کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا
برطانوی اخبار دی گارڈین نے 7 اگست 2026 کو رپورٹ کیا کہ تہران مبینہ طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ تنازع میں الجھائے رکھنے کے لیے وقتی کشیدگی کی حکمت عملی استعمال کر رہا ہے، تاکہ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات (مڈٹرمز) تک معاملہ طول پکڑے۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے سرکاری خبر رساں ایجنسی ایرنا کو بتایا کہ آبنائے ہرمز میں تجارتی ٹریفک کے لیے راستہ طے کرنے کے بعد جوہری مذاکرات کے دوسرے مرحلے تک پہنچنے میں دو سے چار ماہ لگیں گے۔
اصل منصوبے کے مطابق جوہری مذاکرات جون میں امریکہ کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت (MoU) پر دستخط کے 30 دن کے اندر شروع ہونے تھے۔ تاہم غریب آبادی نے کہا کہ امریکی انتظامیہ نے اس ٹائم ٹیبل کو مسترد کر دیا ہے۔ آگے بڑھنے کے لیے تہران رکاوٹوں کا ایک راستہ طے کر رہا ہے جس میں پابندیوں کا خاتمہ، ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کا خاتمہ، اثاثوں کی غیر منجمد کرنا اور عدم جارحیت کی نئی یقین دہانیاں شامل ہیں۔
1979 کے بحران کا اثر
ایران کے اندر بہت سے لوگوں کے لیے ٹرمپ کو سیاسی نقصان پہنچانا ایک جائز مقصد ہے۔ وہ اس تباہ کن اثر کو دہرانے کی کوشش کر رہے ہیں جو امریکی سفارت خانے کے یرغمال بحران (1979-1981) نے جمی کارٹر کی صدارت پر ڈالا تھا۔ ٹرمپ کے خلاف غصہ ان کے 2018 میں جوہری معاہدے سے دستبردار ہونے، جنرل قاسم سلیمانی کے قتل اور مذاکرات کے بعد جنگی تنازعات شروع کرنے پر مبنی ہے۔ سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی موت کے بعد مجتبیٰ خامنہ ای نے قیادت سنبھالی ہے، اور انتقام کے مطالبات کا ماحول برقرار ہے۔
تہران میں اندرونی بحث
ایرانی اشرافیہ میں اس بارے میں تقسیم ہے کہ امریکی انتخابی کیلنڈر سے کیسے نمٹا جائے۔ کچھ کا خیال ہے کہ کانگریس کا کنٹرول کھونے سے ٹرمپ کی جارحیت کم ہوگی، جبکہ دیگر ایک گھیرے ہوئے صدر سے خوفزدہ ہیں۔
| شخصیت | امریکی انتخابات کے بارے میں موقف |
|---|---|
| مصطفیٰ زہرانی (سابق سفارت کار) | کہتے ہیں کہ انتخابی شکست ٹرمپ کو جنگ سے باز رہنے اور مذاکرات کو سنجیدگی سے لینے پر مجبور کرے گی۔ |
| ناصر ہادیان (تہران یونیورسٹی) | مشورہ دیتے ہیں کہ انتظار نہ کریں؛ کمزور ٹرمپ کے پاس معاہدے کے لیے کم ترغیب ہوگی اور وہ اسرائیل کے حملوں کا آسان ہدف بنے گا۔ |
| کیهان (قدامت پسند اخبار) | جون میں طے شدہ MoU کو بیکار قرار دیتے ہیں، کہتے ہیں کہ امریکہ ہمیشہ اپنے وعدے توڑتا ہے۔ |
| مسعود پزشکیان (ایران کے صدر) | کہتے ہیں کہ وہ لامتناہی جنگ نہیں چاہتے اور MoU کو خارجہ پالیسی کا ستون مانتے ہیں۔ |
متوازن سفارت کاری کی امید
جنگی کشیدگی اور سخت بیانات کے باوجود، طویل مدتی سفارتی حل کی حمایت کرنے والی آوازیں ابھر رہی ہیں۔ سابق وزیر خارجہ جواد ظریف نے ایک حالیہ مضمون میں کہا کہ ایران کو ایک متوازن اور کثیر الجہتی خارجہ پالیسی سے فائدہ ہوگا جو صرف روس یا چین پر منحصر نہ ہو۔ صدر مسعود پزشکیان نے بھی کہا ہے کہ وہ ایران میں امریکہ کی جائز سرمایہ کاری کے لیے جگہ دیکھتے ہیں، جو اس بات کی امید دیتی ہے کہ تنازع میدان جنگ میں نہیں بلکہ بیلٹ باکس اور بین الاقوامی مذاکرات کی میز پر طے ہوگا۔