ایک غیر معمولی سیکیورٹی آپریشن
برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق، 8 جولائی 2026 کو ترکی کے شہر انقرہ میں نیٹو (NATO) کے اجلاس کے بعد، امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کی جانب سے ایک قابلِ اعتماد دھمکی کی وجہ سے خفیہ طور پر منتقل کیا گیا ہوگا۔ نیٹو ایک فوجی اتحاد ہے جس میں مغربی ممالک شامل ہیں۔
امریکہ اور ایران کے درمیان تنازعہ، جو 28 فروری 2026 کو دوبارہ شدت اختیار کر گیا تھا، نے انتہائی کشیدہ صورتحال پیدا کر دی تھی۔ مبینہ دھمکی کے بعد، ٹرمپ نے کیمروں کے سامنے پرانی ایئر فورس ون (صدر کا سرکاری طیارہ) میں سوار ہونے کا ڈرامہ رچایا، لیکن چند منٹ بعد انہیں ایک دروازے سے باہر نکالا گیا اور ایک کیٹرنگ ٹرک کے ذریعے ایک فوجی طیارے C-32A میں منتقل کر دیا گیا۔
دھوکے کے طور پر اڑنے والا طیارہ
اس آپریشن کی سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ایئر فورس ون 100 سے زائد افراد کے ساتھ اڑ گیا، جن میں صحافی اور وائٹ ہاؤس کا عملہ شامل تھا۔ انہیں نہ تو ان کی جان کے خطرے کے بارے میں بتایا گیا اور نہ ہی یہ کہ صدر طیارے میں موجود نہیں ہیں۔ برطانیہ کی طرف اڑان بھرتے وقت کھڑکیوں کی جالیاں بند رکھنے کی ہدایت کی گئی۔
سی آئی اے کے سابق انٹیلی جنس افسر سٹیون کیش نے نوٹ کیا کہ اس آپریشن میں ان افراد کو صدر کی جگہ پر نشانہ بننے کے لیے دھوکے کے طور پر استعمال کیا گیا ہوگا۔
ردعمل اور وضاحت کا مطالبہ
ڈیموکریٹک سینیٹر رچرڈ بلومنتھل نے اس آپریشن کو 'بے مثال اور سُرئیل' قرار دیتے ہوئے کانگریس میں ایک بریفنگ کا مطالبہ کیا ہے تاکہ یہ جانا جا سکے کہ صدارتی طیارے کے مسافروں کے ساتھ کیا احتیاطی تدابیر اپنائی گئیں۔
12 اگست 2026 کو، ٹرمپ نے اس واقعے کی تصدیق کی اور میڈیا رپورٹس کے مطابق کہا: 'مجھے پرواہ نہیں'۔ انہوں نے مزید کہا کہ جس طیارے میں انہوں نے بالآخر سفر کیا، وہ دراصل زیادہ خطرے میں تھا کیونکہ وہ ممکنہ نشانہ ہو سکتا تھا۔
تنازعے کا پس منظر
ایران کے ساتھ کشیدگی 28 فروری 2026 سے بڑھ گئی تھی۔ نیٹو اجلاس کے دوران امریکہ ایران پر فوجی حملے کر رہا تھا، جس سے صدر کے خلاف براہ راست انتقامی کارروائی کا خطرہ بڑھ گیا تھا۔
شفافیت پر بحث
سیکیورٹی ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ وائٹ ہاؤس پریس سے جھوٹ بولے بغیر تعاون طلب کر سکتا تھا۔ یہ امید کی جاتی ہے کہ مستقبل میں آنے والی پالیسیاں صحافیوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں گی بغیر سچائی سے سمجھوتہ کیے۔
اصل خبر کا ماخذ: دی گارڈین