امریکی خصوصی ایلچی جیرڈ کشنر نے پیر کو یروشلم میں اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو سے ملاقات کی تاکہ غزہ کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کے 15 نکاتی امن منصوبے کو آگے بڑھایا جا سکے۔ یہ ملاقات چار گھنٹے سے زائد جاری رہی، اور اس سے قبل کشنر نے مصر میں حماس کے رہنماؤں سے بھی بات چیت کی تھی۔ بین الاقوامی سطح پر اس عمل کے تعطل پر تشویش بڑھ رہی ہے۔

یروشلم میں اہم ملاقات

امریکی خصوصی ایلچی جیرڈ کشنر نے پیر 17 اگست 2026 کو یروشلم میں اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات غزہ کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کو آگے بڑھانے کی کوشش میں ہوئی۔ اس ملاقات میں نکولے ملادینوف (امن بورڈ کے ڈائریکٹر) اور برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے بھی شرکت کی۔

نیتن یاہو کے دفتر کے مطابق، ملاقات مقامی وقت کے مطابق صبح 11 بجے (GMT 8 بجے) شروع ہوئی اور چار گھنٹے سے زائد جاری رہی۔ ایک اسرائیلی ذریعے نے CNN کو بتایا کہ کشنر نے نیتن یاہو پر زور دیا کہ وہ ٹرمپ کے حمایت یافتہ منصوبے میں 'رکاوٹیں نہ ڈالیں'۔

'یہ طے پایا ہے کہ اسرائیلی دفاعی افواج کی غزہ سے کوئی واپسی نہیں ہوگی جب تک حماس مکمل طور پر غیر مسلح نہیں ہو جاتی اور پورا غزہ غیر فوجی نہیں ہو جاتا: تمام ہتھیار، ہلکے اور بھاری، اور تمام سرنگیں۔' - امن بورڈ کے ایک عہدیدار نے ملاقات کے بعد کہا۔

15 نکاتی منصوبہ اور نیتن یاہو کا رد

ٹرمپ کا امن منصوبہ جولائی کے آخر میں پیش کیا گیا تھا۔ اس میں حماس اور غزہ کے تمام مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنا، اسرائیلی افواج کا بتدریج انخلاء، اور بین الاقوامی استحکام فورس کا قیام شامل ہے۔ تاہم، 9 اگست کو نیتن یاہو نے اس 15 نکاتی دستاویز کو عوامی طور پر مسترد کر دیا تھا، اور کسی بھی اسرائیلی انخلاء سے پہلے حماس کے مکمل تخفیف اسلحہ کا مطالبہ کیا تھا۔

بنیادی تنازع اقدامات کی ترتیب پر ہے: حماس اسرائیلی انخلاء سے پہلے ہتھیار ڈالنے سے انکار کرتی ہے، جبکہ اسرائیل اس وقت تک غزہ میں رہنے پر اصرار کرتا ہے جب تک مکمل تخفیف اسلحہ نہ ہو۔ ایک اسرائیلی ذریعے کے مطابق، نیتن یاہو نے کہا کہ آنے والے اسرائیلی انتخابات (27 اکتوبر 2026) کی وجہ سے منصوبے پر آگے بڑھنا 'مشکل' ہے۔

مصر میں حماس سے ملاقات

ایک دن پہلے، اتوار 16 اگست کو، کشنر نے مصر کے شہر العلمین میں حماس کے رہنما خلیل الحیہ سے ملاقات کی۔ یہ ایک غیر معمولی ملاقات تھی کیونکہ امریکہ حماس کو دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے۔ اس ملاقات میں ملادینوف اور مصر، قطر، اور ترکی کے نمائندے بھی شریک تھے، جو ثالثی کر رہے ہیں۔

ملاقات کے دوران کشنر نے حماس سے 'ٹھوس اور قابل تصدیق اقدامات' کرنے کو کہا اور یہ پیغام دیا کہ 'غزہ کبھی بھی اسرائیل کے لیے دہشت کا ذریعہ نہیں بن سکتا'۔ حماس نے منصوبے سے اپنے عزم کا اعادہ کیا اور ثالثوں سے کہا کہ وہ اسرائیل کو روڈ میپ کی منظوری اور اس پر عمل درآمد کے لیے ایک ٹائم ٹیبل طے کرنے پر 'مجبور' کریں۔

اسرائیل پر بین الاقوامی دباؤ

یروشلم میں یہ ملاقات اس وقت ہوئی جب آٹھ ممالک (مصر، قطر، ترکی، اردن، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، پاکستان اور انڈونیشیا) نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا جس میں اسرائیل کو امن عمل میں رکاوٹیں ڈالنے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔ ان ممالک نے کہا کہ 'اسرائیل کی منفی رویہ امن عمل کو پٹری سے اتارنے کا خطرہ ہے'۔

نیتن یاہو کی پارٹی لیکود نے جواب میں ان ممالک پر الزام لگایا کہ وہ آنے والے انتخابات میں وزیر اعظم کو حکومت سے باہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اسرائیل کی سلامتی، مرکزی نقطہ

اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے بھی پیر کو کشنر اور ملادینوف سے اپنی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ ہرزوگ نے کہا کہ وہ 'متاثر' ہیں کہ اسرائیل کی سلامتی کے مفادات منصوبے کا ایک اہم اور مرکزی عنصر ہیں۔ انہوں نے اپنے X اکاؤنٹ پر لکھا، 'میں متاثر ہوں کہ اسرائیل کی سلامتی کے مفادات آپ کے منصوبے کا ایک اہم اور مرکزی عنصر ہیں'۔

نیتن یاہو کے ساتھ ملاقات کے بعد، وزیر اعظم کے دفتر نے اعلان کیا کہ اسرائیل اور امن بورڈ غزہ کے تخفیف اسلحہ اور غیر فوجی بنانے کے لیے ایک مشترکہ ورکنگ گروپ بنائیں گے، اور ایک اور گروپ صفائی، پینے کے پانی اور دیگر بنیادی وسائل فراہم کرنے کے لیے بنایا جائے گا۔

سیاق و سباق: جنگ اور جنگ بندی

غزہ میں جنگ 7 اکتوبر 2023 کو شروع ہوئی، جب حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا جس میں تقریباً 1,200 افراد ہلاک اور 250 یرغمال بنائے گئے۔ امریکہ کی ثالثی میں جنگ بندی 10 اکتوبر 2025 سے نافذ ہوئی اور اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی ممکن ہوئی۔

تاہم، تشدد مکمل طور پر نہیں رکا۔ حماس کے زیر کنٹرول غزہ کی وزارت صحت کے مطابق، جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے کم از کم 1,262 فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ ان اعداد و شمار کو قابل اعتماد مانتا ہے۔ اسرائیلی فوج نے اسی عرصے میں اپنی صفوں میں پانچ اموات کی اطلاع دی۔

اتوار کو اسرائیلی طیاروں نے نسییرات کے مغرب میں ایک گھر پر حملہ کیا، جس میں کئی افراد زخمی ہوئے، غزہ کی سول ڈیفنس کے مطابق۔ اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے اسلامی جہاد کے ارکان کی طرف سے خطرے کا جواب دیا۔

آگے کیا ہے؟

امن بورڈ نے نیتن یاہو کو بتایا کہ حماس نے غیر مسلح ہونے اور غزہ میں اپنی فوجی سرگرمیاں ختم کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ اس کے بدلے میں، نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل 'اپنے باقی وعدوں کو پورا کرے گا'، حالانکہ ایک اعلیٰ اسرائیلی عہدیدار نے کہا کہ اسرائیل حماس کے کمانڈروں کے خلاف ٹارگٹ کلنگ ختم نہیں کرے گا۔

امن بورڈ کے ایک عہدیدار نے کہا، 'اسرائیلی اسے ایک موقع دیں گے۔ اب یہ حماس پر منحصر ہے کہ وہ ثابت کرے کہ وہ واقعی پابندی کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔'

27 اکتوبر کے اسرائیلی انتخابات اور بڑھتے ہوئے بین الاقوامی دباؤ کے ساتھ، غزہ کے لیے ٹرمپ کے امن منصوبے کا مستقبل غیر یقینی ہے، لیکن پیر کی ملاقات مذاکرات میں ایک ٹھوس قدم ہے۔

ماخذ: CNN اور دیگر خبر رساں ادارے