ناروے کے 89 سالہ بادشاہ ہیرالڈ پنجم کو خون کی کمی (ہیمولٹک انیمیا) کے علاج کے دوران اسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔ وہ دو ہفتے آرام کریں گے، اس دوران ولی عہد شہزادہ ہاکون قائم مقام بادشاہ کے فرائض انجام دیں گے۔ یہ واقعہ یورپ کے سب سے معمر بادشاہ کی صحت کے حوالے سے تشویش پیدا کرتا ہے، لیکن طبی ماہرین کے مطابق وہ جلد صحت یاب ہو سکتے ہیں۔

ناروے کے بادشاہ ہیرالڈ پنجم (89 سال) کو پیر 17 اگست 2026 کو اوسلو یونیورسٹی ہسپتال میں داخل کیا گیا۔ شاہی محل کے مطابق، وہ ہیمولٹک انیمیا (خون کی کمی) کے علاج کے دوران پیش آنے والی پیچیدگیوں کی وجہ سے اسپتال میں ہیں۔ انہیں کورٹیسون کے علاج کے بعد جسم میں پانی جمع ہونے کی شکایت تھی۔

بادشاہ 1991 سے تخت پر براجمان ہیں اور وہ یورپ کے سب سے معمر بادشاہ ہیں۔ انہیں حالیہ ہفتوں میں خون کی اس بیماری کے لیے کورٹیسون دیا جا رہا تھا، جس کی وجہ سے جسم میں سیال جمع ہو گیا۔

ہیمولٹک انیمیا کیا ہے؟

یہ ایک ایسا عارضہ ہے جس میں خون کے سرخ خلیے قبل از وقت تباہ ہو جاتے ہیں اور جسم انہیں اتنی تیزی سے نہیں بنا پاتا۔ یہ خود کار قوت مدافعت کی بیماریوں، انفیکشن، بعض ادویات یا موروثی عوارض کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔ علامات میں تھکاوٹ، پیلا پن اور سانس لینے میں دشواری شامل ہیں۔ اس کی شدت مختلف ہوتی ہے: کچھ معاملات ہلکے ہوتے ہیں جبکہ کچھ میں اسپتال میں علاج کی ضرورت پڑتی ہے، جیسا کہ اس معاملے میں۔

ولی عہد شہزادہ ہاکون کی قائم مقامی

طبی چھٹی کے دوران، جو دو ہفتے تک جاری رہے گی، ولی عہد شہزادہ ہاکون (53 سال) قائم مقام بادشاہ کے فرائض انجام دیں گے اور آئینی اختیارات استعمال کریں گے۔ شاہی محل نے کہا ہے کہ بعد میں سرکاری مصروفیات پر اثرات کا جائزہ لیا جائے گا۔

یہ پہلا موقع نہیں جب ہاکون نے قائم مقامی سنبھالی ہو۔ اس سے قبل فروری اور مارچ 2026 میں بھی انہوں نے یہ ذمہ داری نبھائی تھی جب ان کے والد ٹینیرائف (اسپین) میں انفیکشن اور پانی کی کمی کی وجہ سے اسپتال میں تھے۔ اس وقت بادشاہ نے علاج پر اچھا ردعمل دیا اور فروری کے آخر میں ڈسچارج ہو گئے تھے۔

طبی تاریخ

بادشاہ ہیرالڈ نے حالیہ برسوں میں کئی صحت کے مسائل کا سامنا کیا ہے۔ فروری 2024 میں ملائیشیا کے نجی دورے کے دوران انفیکشن اور دل کی دھڑکن کم ہونے کی وجہ سے انہیں اسپتال میں داخل کیا گیا تھا، جس کے بعد عارضی پیس میکر لگایا گیا۔ ناروے منتقل ہونے کے بعد انہیں مستقل پیس میکر دیا گیا۔ 2020 میں دل کے والو کی تبدیلی کی سرجری ہوئی، اور 2021 میں گھٹنے کے ligament کی سرجری ہوئی۔ مارچ 2022 میں COVID-19 سے بھی اسپتال میں داخل رہے اور 2023 میں انفیکشن کی وجہ سے۔

اپنی خراب صحت کے باوجود، بادشاہ نے کئی بار دستبرداری سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ تاحیات اپنے عہدے پر رہیں گے، جیسا کہ انہوں نے پارلیمنٹ کے سامنے حلف لیا تھا۔

شاہی خاندان کے لیے مشکل وقت

بادشاہ کی صحت ایک ایسے وقت میں تشویش کا باعث ہے جب شاہی خاندان پہلے ہی مشکلات سے گزر رہا ہے۔ ان کی بہو، ولی عہد شہزادی میٹے-ماریت (52 سال) نے جون 2026 میں پھیپھڑوں کی پیوند کاری کرائی تھی، جو 2018 میں تشخیص شدہ دائمی پلمونری فائبروسس کی وجہ سے تھی۔ اس کے علاوہ، میٹے-ماریت کے بیٹے ماریس بورگ ہوئیبی (29 سال) کو جون 2026 میں عصمت دری اور دیگر جرائم کے الزام میں چار سال قید کی سزا سنائی گئی تھی، حالانکہ انہوں نے اپیل کی ہے۔

شاہی محل نے یہ نہیں بتایا کہ بادشاہ اپنی طبی چھٹی ختم ہونے کے بعد کب سرکاری مصروفیات دوبارہ شروع کریں گے۔ اس دوران شہزادہ ہاکون آئینی فرائض سنبھالیں گے، جبکہ میٹے-ماریت کی صحت کی وجہ سے شاہی خاندان کی سرگرمیاں محدود ہیں۔