ایکواڈور کے مرکزی انٹیلیجنس ادارے کے ڈائریکٹر میچلے سینی کونٹوگی (44) اور ان کی اہلیہ اسٹیفنی ہولیاں (42) کینیا میں ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہو گئے۔ یہ المناک واقعہ بدھ 19 اگست 2026 کو پیش آیا۔ اس کے علاوہ پانچ دیگر افراد بھی اس سانحے میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ایکواڈور کی حکومت نے اس واقعے کی تصدیق کی ہے۔

سانحے کی تفصیل

19 اگست 2026 کو شمالی کینیا کے صومعڈی علاقے میں ایک ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہو گیا۔ ہیلی کاپٹر یورو کاپٹر EC130 B4 جس کی رجسٹریشن نمبر 5Y-GYM تھی، اور اے لیڈی لوری ہیلی کاپٹرز چلا رہی تھی۔ یہ ہیلی کاپٹر پہاڑ اولولاؤکی کے پہاڑی سلسلے میں ایک سخت اور چٹانی علاقے میں گرا۔ اس میں سات افراد سوار تھے: چھ مسافر اور ایک پائلٹ۔ یہ ہیلی کاپٹر لیسو ابی نیچرل ریزرو سے ایواس وائیو کی طرف جا رہا تھا جو سفاری کے مشہور سیاحتی مقام ہے۔

کینیا کے سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق، حادثہ مقامی وقت 09:13 (06:13 GMT) پر پیش ہوا۔ ریسکیو آپریشن دشوار تھا کیونکہ حادثے کی جگہ بہت دور پہاڑی علاقہ تھا، اور وہاں آگ لگ گئی۔ ایک ویڈیو میں دھواں کا کالا بادل دیکھا گیا۔ کینیا کے ایک ہوا بازی اہلکار نے خبر رساں ادادے اے۔ پی۔ ایف سے کہا کہ کوئی بھی زندہ نہیں بچا۔

متاثرین میں ایکواڈور کے انٹیلیجنس سربراہ

ایکواڈور کی صدارت نے تصدیق کی ہے کہ میچل سینٹی-کونٹوگی، جو ایکواڈور کے قومی انٹیلیجنس ادارے (CNI) کے ڈائریکٹر جنرل تھے، 44 سال کی عمر میں ہلاک ہو گئے۔ وہ جنوری 2024 سے اس عہدے پر فائز تھے۔ ان کی اہلیہ اسٹفنی ہولین ویسکویز، 42 سال کی عمر میں، بھی اس حادثے میں ہلاک ہوئی۔ وہ ایک نامور فیشن ڈیزائنر تھیں اور ایکواڈور کے صدر ڈینیئل نوبو کے بہت ہی قریب تھیں۔

میچل سینٹی کونٹوگی کو اٹلی کے باپ اور ایکواڈور کے والدین کا لڑکا تھا۔ وہ پہلے ایک کامیاب تجارتی پروشی تھے اور بعد میں کچھ مہینوں کے لیے وزارت بھی رہے۔ ان کی موت ایکواڈور کے لیے ایک بڑا سانحہ ہے، خاص کر اس دور میں جب ملک میں منظم جرائم اور بدامنی بہت بڑھی ہوئی ہے۔

حادثے میں ہلاک ہونے والے افراد
نامعمرقومیتعہدہ
میچل سینٹی کونٹوگی44ایکواڈورایکواڈور کے قومی انٹیلیجنس سربراہ
اسٹفنی ہرک ویسکویز42ایکواڈور/امریکیفیشن ڈیزائنر
خوسے ابرٹو سوریز55امریکیٹیلیمنڈو کے ریجنل صدر
روجر ڈوئیٹ42امریکیمیامی کے کاروباری

ان کے علاوہ تین اور افراد بھی اس حادث میں ہوئے، جو امریکی شہری تھے۔

امریکی وزارت خارجہ نے تصدیق کی کہ اس حادث میں پانچ امریکی شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ یہ تمام مسافروں ایک لگژری سفاری کمپنی &Beyond کے ذریعے سفر کر رہے تھے۔

ٹیلیمنڈو کے اعزاز میں

ہلاک ہونے والوں میں امریکی ٹیلیویژن نیٹورک ٹیلیمنڈو کے ایک سینئر ایگزیکٹو خوسف البرٹو سواریز بھی شامل ہیں، جن کی عمر 55 سال تھی۔ وہ فلوریڈا میں ٹیلیمنڈو کے تین چینلز کے صدر تھے۔ انہوں نے 2024 سے یہ ذمہ داری سنبھالی تھی۔ سواریز نے 25 سے زائد سالوں سے میڈیا انڈسٹری میں کام کیا تھا اور سکریٹو، لاس ویگاس، فریسنو، سلٹ لیک سٹی اور سین انٹونیو میں بھی خدمات انجام دی تھیں۔

تحقیقات اور ریسکیو

حادثے کی تحقیقات کینیا کے وزارت ٹرانسپورٹ کے ایئر ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ نے شروع کر دی ہے۔ اب تک حادثے کی اصل وجو واضح نہیں ہوئی۔ ہیلی کاپٹر کی تکنیکی حالت، موسمی حالات اور آپریشن کی تجزیہ کی جا رہی ہے۔ کینیا کی ریڈ کورس اور مقامی ایجنسیوں نے بھی ریسکیو آپریشنز میں حصہ لیا۔

حکومتی ردعمل

ایکواڈور کی نائب صدر ماریہ جوسپ پنٹو نے ایکس پر لکھا: آج بہت دکھ بھرا دن ہے۔ الفاظ کافی نہیں ہیں کہ اتنی بےوقتی موت کی وضاحت کی جائے۔ وزرر رابرٹو لوک نے بھی دکھ کا اظہار کیا: آج مچل اور اسٹفنی بہت قبل چلے گئے۔

دیر شام ہوتے صدر نوبو نے ایک حکم نامے کے ذریعے لوئس کرس کو نیا انٹیلیجنس ڈائریکٹر مقرر کیا، اور سینٹی کونٹوگی کی خدمات پر قولی گنوئی جاری کیں۔