ایک تاریخی طوفان
جاپان کی موسمیاتی تاریخ میں 13 اگست 2026 ایک سیاہ دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ ایک طوفان نے مشرقی شہر چیبا میں ایک گھنٹے میں 115 ملی میٹر بارش برسائی جو کہ عام حالات میں اگست کے پورے مہینے کی بارش کے برابر ہے۔ پڑوسی شہر ساکورا نے بھی 60 منٹ میں 97 ملی میٹر بارش کا ریکارڈ توڑا۔
جاپان کی موسمیاتی ایجنسی نے بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے لیے پہلی بار لیول 5 الرٹ جاری کیا، جو مئی میں نظام شروع ہونے کے بعد سب سے زیادہ ہے۔ حکام نے چیبا پریفیکچر اور ملحقہ علاقوں سے 400,000 سے زائد افراد کو انخلاء کا حکم دیا، جبکہ 45,000 گھر بجلی سے محروم ہو گئے (بعض ذرائع کے مطابق 100,000 سے زائد گھروں کو انخلاء کی ہدایت دی گئی اور 20,000 بجلی کے بغیر تھے)۔
متاثرین اور ریسکیو کارروائیاں
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 13 اموات ہوئیں، جن میں سے کم از کم تین افراد اپنی گاڑیوں میں پھنس کر ہلاک ہوئے۔ ساکورا میں 66 سالہ خاتون اپنی گاڑی میں ڈوب کر ہلاک ہوئیں، اور اچیکاوا کی ایک سیلاب زدہ سڑک پر 60 سے 70 سال کے ایک شخص کی لاش ملی۔ دو دیگر افراد بھی اپنی کاروں سے نکل نہ سکنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔ ایک شخص اب بھی لاپتہ ہے۔
چیبا کے گورنر توشی ہیٹو کوماگائی نے کہا: "میں نے بہت سی آفات کا سامنا کیا ہے، لیکن میں نے کبھی اس طرح کا تجربہ نہیں کیا۔" حکومت نے ریسکیو کارروائیوں میں مدد کے لیے فوجی دستے بھیجے۔
ناریتا ہوائی اڈے پر افراتفری
تقریباً 7,000 مسافروں کو ٹوکیو کے ایک اہم ہوائی اڈے ناریتا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر رات گزارنی پڑی، جبکہ 1,700 افراد نے پریفیکچر کی سرکاری عمارت میں پناہ لی۔ NHK کی تصاویر میں چیبا کے مرکزی ضلع میں ایک پانچ منزلہ عمارت کی بلندی تک سیوریج سے پانی کے زور سے ابلنے کی جھلک دکھائی گئی۔
ایک برطانوی مسافر فلپ نے اے ایف پی کو بتایا کہ انہیں ہوائی اڈے تک پہنچنے کے لیے نو گھنٹے کا سفر کرنا پڑا، جس میں ٹیکسی بھی شامل تھی: "میں نے صرف سونے اور نیٹ فلکس دیکھنے کی کوشش کی۔"
جنوبی کوریا بھی زیر آب
یہ مظاہر صرف جاپان تک محدود نہیں تھا۔ جنوبی کوریا کے شہر گیوجی میں 17 اگست کو ایک گھنٹے میں 124.5 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، اور رات کے دوران 400 ملی میٹر سے زائد بارش ہوئی۔ تصاویر میں سیلاب زدہ سڑکیں اور زیرِ گذر راستوں میں پھنسی گاڑیاں دکھائی دے رہی ہیں۔
ماہرین موسمیات کے مطابق شمالی بحرالکاہل کی گرم اور مرطوب ہوا کا ٹھنڈی ہوا کے ساتھ ٹکراؤ ان انتہائی طوفانوں کا سبب بنا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اس طرح کے واقعات کی تعدد اور شدت میں اضافہ کر رہی ہے۔
بحرالکاہل میں سمندری طوفان بھی سرگرم
بحرالکاہل کے دوسری جانب سمندری طوفان لالا 15 اگست کو کیٹیگری 1 تک پہنچا جس کی ہوائیں 130 کلومیٹر فی گھنٹہ تھیں، وہ ہوائی کے جنوب سے گزرا اور پھر کیٹیگری 4 تک شدت اختیار کر گیا، تاہم بغیر کسی بڑے نقصان کے کمزور ہو گیا۔ ایشیا کے قریب، اشنکٹبندیی طوفان ساؤڈیل انتہائی شدید طوفان میں تبدیل ہو سکتا ہے اور شمالی ماریانا جزائر اور اوکیناوا پریفیکچر کو خطرہ ہے۔
جاپانی حکام نے عوام سے دریا میں آنے والے سیلاب کے خطرے کے پیش نظر چوکس رہنے اور جلد انخلاء کرنے کی اپیل کی ہے۔