22 اگست 2026 کو، صدر ٹرمپ نے کینیڈین اشیاء پر 50 فیصد ٹیرف لگایا، جس کی مالیت 20 بلین امریکی ڈالر ہے۔ کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے جوابی ایکسفر اقدام کرتے ہوئے مذاکرات معطل کر دیے اور سفیروں کو واپس بلایا۔ یہ جنگ دو سب سے بڑے تجارتی شراکتداروں کے لیے تاریخی سنگ بنیاد بن گئی ہے۔

بحران کی ابتدا

22 اگست 2026ء کو امریکی حکومت نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر کینیڈا سے درآمد ہونے والی اشیاء پر 50 فیصد ٹیرف عائد کر دیا۔ اس کا دائرہ وسیع ہے اور ان اشیاء کی مالیت 20 بلین امریکی ڈالر بنتی ہے۔ یہ اقدام اس وقت عمل میں لایا گیا جب آخری لمحات میں تجارتی مذاکرات ناکام ہو گئے۔ یہ ٹیرف کینیڈین برآمدات کا تقریباً 5 فیصد حصہ متاثر کرے گا۔

کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے فوراً ردعمل دیا۔ انہوں نے قوم کے نام اپنے ٹیلیویژن خطاب میں اعلان کیا: "ہم ایک ایک ڈالر کے بدلے ایک ڈالر کے حساب سے جوابی ٹیرف عائد کریں گے۔" انہوں نے تفصیل دیتے ہوئے بتایا کہ یہ اقدامات 8 ستمبر 2026ء سے نافذ ہوں گے اور یہ ہدف بنائے گی: فولاد، دودھ، گھریلو آلات، اور الیکٹرونکس جو امریکہ سے آتے ہیں۔

وزیر اعظم نے مزید کہا: "ہم ان کی پیشکش کو قبول نہیں کر سکتے، اور ہم ان کی شرائط کو بھی نہیں مان سکتے۔" انہوں نے تصریح دی: "میں امریکا کے ساتھ تجارتی مذاکرات معطل کر رہا ہوں اور اپنے مذاکروں کو واپس اٹووا بلا رہا ہوں۔" انہوں نے ان آخری اوقات میں ہونے والی تبدیلیوں کو "غیر منصفانہ، معاشرتی اور کسی بھی معاہدے کی قابلِ اعتمادیت کو ختم کرنے والا" قرار دیا۔

ناکام مذاکرات کی کہانی

یہ سلسلہ جولائی میں شروع ہوا جب ٹرمپ نے کینیڈا کو مجبور کرنے لیے 50% ٹیرف کی دھمکی دی۔ بدھ 19 اگست کو واشنگٹن نے تین دن کی مہلت دے دی، شرط یہ تھی کہ کی اسٹوون ایکس ایل تیل پائپ لائن منصوبے کو دوبارہ شروع کیا جائے۔ مذاکرات کرنے والی ٹیموں نے واشنگٹن میں آخری لمحے تک کام کیا، لیکن کوئی اتفاق رائے نہیں ہوا۔

امریکی نمائندہ تجارت کہ ذمہ دار جیمیسن گرییور نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: "کینیڈا نے ہفتے کے شروع میں طے کی گئی شرائط پر عمل نہیں کیا، اور ہماری نئی مطالبات نے پریشان کر دیا۔" انہوں نے الزام لگایا کہ کینیڈا نے اپنے وعدے پورے نہیں کیے، جس سے پچھلے دنوں میں طے پائی ہوئی توازن خراب ہو گئی۔

تصادم کے نکات

مذاکرات میں بنیادی رکاوٹیں تھیں: فولاد، ایلومینیم، لکڑی، اور دودھ کی مصنوعات۔ امریکی ذقواری ابتدائی مسودے میں ان شی نے پایا کہ فولاد وایلومینیم کی ڈیوٹی 50% سے کم کر کے 25% کی جائے (اور ایک مقررہ حجم کے بعد اضافی ڈیوٹی)، جبکہ آٹوموبائل کی ڈیوٹی 25% سے 15% کی جائے۔ پھر بھی کینیڈا کو ناراض کرنے والی اصل چیز تھی: امریکا کی طرف سے کینیڈا کے صوبائی سٹوروں میں امریکی شراب دوبارہ فروخت کی شرط۔

امریک نے یہ کارروائی 1930ء کے ٹیرف قانون کی دھاز 338 کے ذریعہ نافذ کی، جو کسی ملک کو امیک کے تجارت سے تمیز کرنے پر ناکارہ کرنے کا اختیار دیتی ہے۔ اس فہرست میں تقریباً 500 اقسام کی اشیاء شامل ہیں: شراب، دودھ، کنکریٹ، کپڑے، فرنیچر، ہاکی کا سامان، اور مچھلی پکڑنے کی بنسیی۔

باہمی تجارت پر اثرات

دونوں ممالک کے درمیان سالانہ تجارت کا حجم 880 ارب ڈالر ہے۔ کینیڈا کی تقریباً 72% برآمدات امریکا جاتی ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، 50% ٹیرف کینیڈا کی جیڈیپیی کو 0.3% سے 0.6% تک کم کر سکتا ہے، اور ماہری معاشیات ٹریور ٹومبی کے اندازے میں 90,000 لوگ بے روزگار ہو سکتے ہیں۔

اوٹاوا کا جواب

کارنی کے ساتھ پورا ملک متحد ہے۔ اونٹیریو کے وزر اعلیٰ ڈگ فورڈ نے مکمل حمایت ظاہر کی اور کہا: "ٹیرف کے بدلے ٹیرف، ڈالر کے بدلے ڈالر"۔ کلونیبیا کے صدر نے بھی سخت رد عمل دیا: "ہماری شائستگی کمزوری نہیں سمجھی جانی چاہیے۔"

کارنی نے متاثرہ صنعتوں کے لیے $25 بلین کی امدادی پیکج کا وعدہ کیا ہے۔ انہوں نے یہ تائید کی کہ وہ دیگر منڈیوں میں تجارت بڑھائیں گے: "کوئی ملک ہماری مستقبل کا فیصلہ نہیں کر سکتا۔" مزید برآں، انہوں نے $500 بلین کے انفراسٹرکچر منصوبوں میں تیزی لانے کا عزم ظاہر کیا۔

کینیڈا کے چیمبر آف کامرس کی صدر کے چائنیانہ لائی نگ کے مطابق، یہ ٹیرف "شمالی امریکی مسابقت کا زورو زور نقصان" ہے: "کینیڈا کے چھوٹے کسٹمر کے لیے جو سخت مارجن پر چلتا ہے، یہ کوئی دورانی صاق نہیں۔ اس کا مطلب ہے اس کے آرڈرز، پیھل ہہ بیل اور ایفس ٹیاف کا خوفناک سردرد۔"

اگلی ملاقات کا کوئی منصوبہ نہیں

ابھی کے مہ صورتوں میں کوئی نئی ملاقات یا مذاکرات نہیں ہوں گے۔ یہ تعطل امریک کی میڈٹرم انتخابات (نومبر 2026ء) سے پہلے سیاسی کشیدمی کو بڑھاتا ہے، اور کارنی کی "پرانے رشتہ پر واپس نہ جانے" کی عہد کو ایک چالنج بناتا ہے۔

کارنی نے اعلان کیا: "کینیڈا پہلی جیسی واپس نہیں جائے گا۔" اب دونوں جانب کے سرمایہ اور صارفین نئے ٹیرف کی جنگ کے اگلے باب کے لیے خود کو تیار کرا رہے ہیں۔

متعلقہ