جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز (Friedrich Merz) کو اپنی قیادت کے بدترین بحران کا سامنا ہے۔ حالیہ علاقائی انتخابات کے نتائج نے ملک کو شدید تقسیم کر دیا ہے، جہاں دائیں بازو کی سخت گیر پارٹی AfD اور بائیں بازو کی Die Linke نے بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف جرمنی بلکہ پورے یورپی یونین کے استحکام کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔

🌍 سیاسی منظرنامہ: جرمنی کی تقسیم

جرمنی اس وقت ایک ایسی سیاسی جنگ کا شکار ہے جہاں اعتدال پسند سیاست ختم ہو رہی ہے۔ عوام رہائشی مکانات کی قیمتوں میں اضافے اور صنعتی بحران کی وجہ سے شدید ناراض ہیں، جس کا فائدہ انتہا پسند پارٹیاں اٹھا رہی ہیں۔

چانسلر فریڈرک مرز (CDU) کے لیے حالات انتہائی تشویشناک ہیں۔ 20 ستمبر کو ہونے والے علاقائی انتخابات میں ان کی پارٹی کو ایک تاریخی دھچکا لگا۔ خاص طور پر میکلنبرگ-ویسٹ پومیرانیا (Mecklenburg-Vorpommern) میں CDU کئی دہائیوں بعد پارلیمنٹ سے باہر ہو گئی، جہاں انہیں صرف 4.9% ووٹ ملے۔

برلن کی صورتحال

دارالحکومت برلن میں Die Linke (بائیں بازو کی پارٹی)، جس کی قیادت ایلف ایرالپ کر رہی ہیں، تقریباً 25.7% ووٹوں کے ساتھ سب سے بڑی قوت بن کر ابھری ہے۔ یہ پارٹی 200,000 رہائشی مکانات کو سرکاری ملکیت میں لینے کا ارادہ رکھتی ہے، جو کہ وفاقی حکومت کے منصوبوں کے بالکل برعکس ہے۔

دائیں بازو کی پیش قدمی

شمال مشرقی علاقوں میں AfD (سخت گیر دائیں بازو کی پارٹی) نے اپنی گرفت مضبوط کر لی ہے۔ یہ پارٹی ان لوگوں کی نمائندگی کرتی ہے جو موجودہ امیگریشن پالیسیوں اور یورپی یونین کے فیصلوں کے خلاف ہیں۔

علاقہ فاتح پارٹی نتائج اثرات
برلن Die Linke ~25.7% مکانات کی بڑے پیمانے پر قومی کاری کا خطرہ
میکلنبرگ AfD 38.2% حکومتی پارٹی (CDU) پارلیمنٹ سے باہر
سیکسن-انہالٹ AfD 44% سخت گیر دائیں بازو کی مکمل بالادستی
🔑 اصل وجہ کیا ہے؟

چانسلر مرز کی مقبولیت 13% سے بھی کم رہ گئی ہے۔ اس کی بڑی وجہ جرمنی کی مشہور کار کمپنیوں (VW, BMW, Mercedes) کا بحران اور چینی مصنوعات کا مقابلہ ہے، جس نے لاکھوں لوگوں کی ملازمتوں اور معیشت کو متاثر کیا ہے۔

عالمی تناظر: روس اور اقوامِ متحدہ

جرمنی کے اندرونی بحران کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر بھی تناؤ برقرار ہے۔ روس میں ولادیمیر پوتن کی پارٹی روس یونائیٹڈ نے ڈوما (پارلیمنٹ) میں بھاری اکثریت حاصل کر لی ہے، جسے یورپی یونین نے محض ایک "نمائشی عمل" قرار دیا ہے۔

دوسری جانب، نیویارک میں ڈونالڈ ٹرمپ اور وولودیمیر زیلنسکی کے درمیان اہم ملاقاتیں ہو رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے یوکرائن پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ روسی ریفائنریوں پر حملے روک دے تاکہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں کو مستحکم کیا جا سکے، کیونکہ ڈیزل کی سپلائی یوکرائنی فوج کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔

آسان الفاظ میں: یہ صورتحال بالکل ایسی ہے جیسے کوئی ملک دو ایسے حصوں میں بٹ جائے جو ایک دوسرے سے بات کرنے کو تیار نہ ہوں، اور ملک کا سربراہ صرف ایک نام کی انتظامیہ بن کر رہ جائے جس کے پاس عوامی حمایت نہ ہو۔

مآخذ: The Guardian