جرمنی کے چانسلر فرائیڈرک میرز اس وقت اپنی حکومت کے مشکل ترین دور سے گزر رہے ہیں۔ حالیہ علاقائی انتخابات میں ان کی پارٹی (CDU) کی عبرتناک شکست اور انتہا پسند جماعتوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ نے ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا کر دیا ہے، جس سے حکومت کے گرنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

جرمنی کی سیاست میں زلزلہ

جرمنی کی سیاسی بنیادیں اس وقت ہل رہی ہیں۔ ملک کے مشرقی حصوں میں AfD (سخت دائیں بازو کی جماعت) اور برلن میں Die Linke (بائیں بازو کی جماعت) کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے روایتی جماعتوں کے غلبے کو ختم کر دیا ہے۔ اس صورتحال نے چانسلر فرائیڈرک میرز کو انتہائی کمزور پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق، 20 ستمبر کے انتخابات کے نتائج محض ایک شکست نہیں بلکہ وفاقی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں۔ مرکز پسند دائیں جماعت CDU، جو جرمن سیاست کا ستون سمجھی جاتی ہے، میکلنبرگ-پومرنیا مغربی میں صرف 4.9% ووٹ لے کر پارلیمنٹ سے باہر ہو گئی ہے، جبکہ سیکسن-انہالٹ میں AfD نے 44% ووٹ حاصل کر کے اپنی گرفت مضبوط کر لی ہے۔

پس منظر: 'برانڈماوئر' (آگ کی دیوار) کا خاتمہ

اردو میں اس تصور کو سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ جرمنی میں Brandmauer (آگ کی دیوار) ایک ایسی غیر تحریری پالیسی تھی جس کے تحت تمام بڑی جماعتیں AfD جیسی انتہا پسند جماعتوں کو سیاسی طور پر الگ تھلگ رکھتی تھیں۔

تاہم، توانائی کے بحران، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور مشرقی جرمنی میں عوامی ناراضگی کی وجہ سے یہ دیوار اب گر چکی ہے۔ برلن میں رہائشی مکانات کی کمی اور مہنگائی نے لوگوں کو Die Linke کی طرف دھکیلا ہے، جس نے 25.7% ووٹ حاصل کر کے ایک ریکارڈ قائم کیا ہے۔

اندرونی خلفشار

CDU اور CSU کے اندرونی حلقوں میں شدید غصہ پایا جاتا ہے۔ بہت سے ارکان میرز کی حکمت عملی سے ناخوش ہیں، جس کی وجہ سے چانسلر کو اپنی حکومت بچانے کے لیے اعتمادی ووٹ (Vote of Confidence) کی درخواست کرنی پڑ سکتی ہے تاکہ خزان میں مجوزہ اصلاحات منظور ہو سکیں۔

اتحادی تناؤ

حکومت میں شامل دوسری بڑی پارٹی SPD نے بھی سخت رویہ اپنایا ہے۔ سگمار گیبریل نے خبردار کیا ہے کہ اگر ریٹائرمنٹ کے قوانین میں تبدیلی (جیسے 45 سال کام کے بعد بغیر کسی کٹوتی کے پنشن) نہیں کی گئی، تو وہ اصلاحات کی حمایت نہیں کریں گے۔

مستقبل کی ممکنہ صورتحال

  • چانسلر میرز دسمبر سے پہلے اصلاحات مکمل کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں تاکہ استعفیٰ دینے سے بچ سکیں۔
  • اگر SPD نے حمایت واپس لی تو وفاقی اتحاد ٹوٹ سکتا ہے۔
  • AfD کی بڑھتی ہوئی طاقت جرمنی کی خارجہ پالیسی کو دائیں جانب موڑ سکتی ہے، جس سے یورپی یونین اور NATO کے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔
  • برلن میں اگر 'سرخ-سبز-سرخ' اتحاد بنتا ہے تو 200,000 مکانات کی سرکاری ملکیت (Expropriation) کا منصوبہ حقیقت بن سکتا ہے۔

مزید تفصیلات کے لیے اصل خبر ملاحظہ کریں: Imago News