مصطفیٰ خالد علوان کی یہ کہانی شام میں عوامی زندگی اور نجی زندگی کے درمیان موجود گہری خلیج کو ظاہر کرتی ہے، جہاں علم حاصل کرنا ایک خطرناک مہم بن گیا تھا۔
حالیہ دنوں میں علوان نے 100 سے زائد جلدوں پر مشتمل ایک مجموعہ برآمد کیا ہے، جس میں اسلامی متون، سائنسی مقالے اور شاعری کے شاہکار شامل ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ کتابیں کسی تہہ خانے یا تجوری میں نہیں بلکہ دیوار کے اندر چنائی گئی تھیں۔ مالک نے جان بوجھ کر ایک جعلی دیوار تعمیر کی تاکہ ریاست کے سیکیورٹی اداروں کی سخت گرفت سے بچ سکے۔
پس منظر: شام میں فکر اور سوچ پر پہرہ
سال 2000 میں بشار الاسد کے اقتدار میں آنے کے بعد سے، حکومت نے ثقافتی اور مذہبی اظہار پر آہنی گرفت مضبوط کر رکھی ہے۔ شام کی انٹیلیجنس سروس، جسے 'مخابرات' (Mukhabarat) کہا جاتا ہے، ذاتی لائبریریوں کی تک تک بھی رکھتی تھی۔ ایسی کوئی بھی تحریر جسے حکومت کے خلاف یا غیر منظور شدہ اسلامی نظریات سے منسلک سمجھا جاتا، وہ شخص من مانی گرفتاریوں، تشدد یا جبری گمشدگی کا شکار ہو سکتا تھا۔
خوف کی مدت
ان کتابوں کا 15 سال تک چھپا رہنا شامی معاشرے میں خوف کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ دیوار محض تعمیراتی کام نہیں بلکہ بقا کی ایک حکمت عملی تھی۔
سنسرشپ کا دائرہ
سائنس اور شاعری کا مذہبی کتابوں کے ساتھ مل کر ملنا یہ بتاتا ہے کہ سنسرشپ صرف سیاست تک محدود نہیں تھی بلکہ ہر اس فکری آزادی کو نشانہ بنایا جاتا تھا جو سرکاری بیانیے سے مختلف ہو۔
عالمی تناظر اور جیو پولیٹکس
توٹلٹیرین (آمریت) حکومتوں میں 'ممنوعہ لائبریریوں' کا رجحان دیکھا جاتا ہے، جہاں ثقافت اور مطالعہ خاموش مزاحمت کی ایک شکل بن جاتا ہے۔
مستقبل کی امید
ان کتابوں کی واپسی شاید داخلی خطرات کے بارے میں بدلتی ہوئی سوچ کی علامت ہو، اگرچہ امکان ہے کہ ریاستی نگرانی اب بھی عام شہریوں کی زندگی کا غالب عنصر رہے گی۔ یہ واقعہ ممکنہ طور پر دیگر شہریوں کو بھی اپنے چھپے ہوئے ریکارڈز نکالنے کی ترغیب دے سکتا ہے، جو مستقبل میں ملک کی سیاسی استحکام کے بعد تاریخی یادداشت کی تعمیرِ نو میں مددگار ہو سکتا ہے۔