اقوام متحدہ کی 81ویں جنرل اسمبلی کے دوران، ترکیہ کے صدر رجب طیب اردگان نے صنفی غیر جانبداری کی پالیسیوں کو خاندانی نظام پر 'حملہ' قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کی۔ اس کے ساتھ ہی، انقرہ میں 'میرا خاندان محفوظ ہے' نامی ایک بڑے آپریشن کے ذریعے 15 صوبوں میں LGBTQ+ تنظیموں اور افراد کے خلاف قانونی کارروائیوں کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔

روایتی خاندانی نظام اور قومی سلامتی کا جوڑ

ترک حکومت نے LGBTQ+ حقوق کے خلاف اپنی مہم تیز کر دی ہے، جس میں اخلاقیات کو قومی سلامتی اور آبادی کے بڑھاو کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے فورم پر ایک جذباتی خطاب میں، رجب طیب اردگان نے ترکیہ کو "روایتی خاندان" کے قلعے کے طور پر پیش کیا۔ انہوں نے دلیل دی کہ ایک مرد اور ایک عورت کا ملاپ ہی معاشرے کی واحد پائیدار بنیاد ہے۔ یہ موقف ان کے اسٹریٹجک پلان "خاندان اور آبادی کی دہائی 2026-2035" کا حصہ ہے، جو ترکیہ میں شرح پیدائش میں کمی (جو کہ 1.48 بچے فی عورت تک گر گئی ہے) کے جواب میں تیار کیا گیا ہے۔

آپریشن: "میرا خاندان محفوظ ہے"

حکومتی ذرائع کے مطابق، 12 سے 14 ستمبر کے درمیان سیکیورٹی فورسز نے استنبول، انقرہ اور ازمیر سمیت 15 صوبوں میں بڑے پیمانے پر چھاپے مارے۔ اس کارروائی کا ہدف وہ تنظیمیں تھیں جو HIV متاثرین کی مدد کرتی ہیں اور LGBTQ+ حقوق کے لیے کام کرتی ہیں۔ ان پر "فحاشی" اور "نابالغوں کی نامناسب نمائش" کے الزامات لگائے گئے ہیں۔

قانونی اعداد و شمار

وزارت انصاف کے سربراہ اکین گورلیک (Akın Gürlek) نے تصدیق کی ہے کہ اس مہم کے دوران:

  • ✅ 162 افراد کے خلاف عدالتی کارروائی
  • ✅ 9 تنظیمیں نشانہ بنیں
  • ✅ 13 کمپنیاں متاثر ہوئیں
پس منظر: انقرہ کا قدامت پسند رخ

ترکیہ، جو کبھی یورپی یونین میں شمولیت کا خواہش مند تھا، اب سیاسی اسلام (Political Islam) کے ایک زیادہ بند ماڈل کی طرف بڑھ رہا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں، اردگان کی حکومت نے شہری آزادیوں کو محدود کیا ہے اور دہشت گردی کے قوانین کو استعمال کرتے ہوئے اپوزیشن اور LGBTQ+ کمیونٹی کو دبانے کی کوشش کی ہے تاکہ "قومی اقدار" کی حفاظت کی جا سکے۔

صحافت پر دباؤ اور انسانی حقوق

اس crackdown میں ایک نمایاں واقعہ صحافی تگبا تکیریک (Tuğba Tekerek) کی گرفتاری ہے، جنہیں 13 ستمبر کو حراست میں لیا گیا۔ اسٹریٹجک لٹیکیشن ایسوسی ایشن (MLSA) کے مطابق، تکیریک کی گرفتاری کے پیچھے کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہیں، اور اسے آزاد صحافت کو ڈرانے کی کوشش قرار دیا گیا ہے۔

عالمی تناظر: ہیومن رائٹس واچ (Human Rights Watch) نے حال ہی میں کم از کم 112 گرفتاریوں کی دستاویزات فراہم کی ہیں۔

صدر اردگان نے اقوام متحدہ میں صرف اندرونی معاملات پر بات نہیں کی، بلکہ اسرائیل کی سخت مذمت کرتے ہوئے غزہ کو "دنیا کا سب سے بڑا بچوں کا قبرستان" قرار دیا، جس کے بعد اسرائیلی وفد احتجاجاً ہال سے باہر چلا گیا۔ انہوں نے امریکی پابندیوں پر بھی فلسطینی صدر محمود عباس کی حمایت کی۔

مستقبل کے امکانات

سفارتی تناؤ: یورپی یونین ترکیہ پر تنقید تیز کر سکتا ہے، جس سے تجارت اور نقل و حرکت کے معاہدے متاثر ہو سکتے ہیں۔

اندرونی دباؤ: یہ آپریشنز مزید صوبوں تک پھیل سکتے ہیں، جس سے انسانی حقوق کی تنظیموں کے لیے کام کرنا مشکل ہو جائے گا۔

عالمی مقام: اردگان کا یہ سخت لہجہ مغربی ممالک کے ساتھ فاصلے بڑھا سکتا ہے لیکن قدامت پسند ممالک میں ان کی مقبولیت بڑھا سکتا ہے۔