جنگی صورتحال اور موجودہ تنازع
ایتھوپیا میں استحکام ایک بار پھر ختم ہو گیا ہے کیونکہ TPLF (ٹگ رے پیپلز لیبریشن فرنٹ) نے مرکزی حکومت کے خلاف فوجی آپریشنز دوبارہ شروع کر دیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، باغیوں نے شمالی علاقے کے دارالحکومت کے ہوائی اڈے پر قبضہ کر لیا ہے، جو کہ وفاقی افواج کو الگ تھلگ کرنے اور اپنی سپلائی لائن کو محفوظ بنانے کی ایک تزویراتی چال ہو سکتی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ، عفار (Afar) کے علاقے کے ساتھ مشرقی سرحد پر بھی شدید زمینی لڑائیاں جاری ہیں، جس سے یہ جنگ اب صرف ٹگ رے تک محدود نہیں رہی۔ یہ صورتحال میکیلے (Mekelle) اور ایڈیس ابابا (Addis Ababa) کے درمیان مہینوں کی ناکام سفارتی کوششوں کا نتیجہ ہو سکتی ہے۔
پس منظر: ٹگ رے کا المیہ کیا ہے؟
یہ جنگ ایک ایسی تباہ کن لڑائی کے چار سال بعد شروع ہوئی ہے جس کے نتیجے میں اندازہ ہے کہ 600,000 سے زیادہ افراد لقمہ اجل ہوئے تھے۔ یہ اصل تنازع وفاقی حکومت اور TPLF کے درمیان تھا، جس میں مصنوعی قحط اور شدید انسانی بحران پیدا ہوئے تھے۔ امن معاہدوں کے باوجود، باہمی عدم اعتماد اور علاقائی تنازعات نے اس نازک امن کو ختم کر دیا۔
سیاسی مقصد اور اتحاد
اس بار TPLF نے ایک واضح سیاسی مقصد ظاہر کیا ہے۔ گزشتہ اتوار کو ایک اسٹریٹجک اتحاد کے قیام کا اعلان کیا گیا جس کا حتمی مقصد وزیر اعظم کی حکومت کا خاتمہ کرنا ہو سکتا ہے۔
اب یہ دیکھا جائے گا کہ وفاقی حکومت ڈرونز اور بیرونی فوجی امداد کے ذریعے اس بغاوت کو روکنے میں کتنی کامیاب ہوتی ہے۔
عالمی اثرات اور مستقبل کے خدشات
جنگ کی شدت سودان اور Eritrea کی طرف مہاجرین کی ایک نئی لہر پیدا کر سکتی ہے، جس سے پورا خطہ غیر مستحکم ہو جائے گا۔
بین الاقوامی برادری دوبارہ جنگ بندی کے لیے دباؤ ڈال سکتی ہے، تاکہ انسانی جانوں کا مزید ضیاع روکا جا سکے۔
ممکن ہے کہ بیرونی طاقتیں بحیرہ احمر (Red Sea) میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے اس تنازع میں مداخلت کریں۔