علاقائی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی آئی ہے جہاں ایتھوپیا اور Eritrea نے اپنے تمام سفارتی تعلقات ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ ایک دوسرے پر عدم استحکام پیدا کرنے اور داخلی تنازعات کی مالی معاونت کے شدید الزامات کے بعد سامنے آیا ہے، جس سے پورے خطے میں بے چینی پھیل گئی ہے۔

افریقہ کے سینگ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی

افریقہ کے شمال مشرقی حصے، جسے 'ہارن آف افریقہ' (Horn of Africa) کہا جاتا ہے، میں حالات انتہائی کشیدہ ہو گئے ہیں۔ ایتھوپیا اور Eritrea نے باضابطہ طور پر اپنے سفارتی تعلقات ختم کرنے کا اعلان کیا ہے، جس سے وہ امیدیں ختم ہو گئی ہیں جو اس خطے میں امن اور استحکام کے لیے رکھی گئی تھیں۔

سیاسی پس منظر کیا ہے؟

سفارتی زبان میں 'تعلقات توڑنے' کا مطلب یہ ہے کہ دونوں ممالک اب ایک دوسرے کے ساتھ سرکاری سطح پر بات چیت نہیں کریں گے، سفارت خانے بند ہو سکتے ہیں اور تجارتی یا سیاسی معاہدوں پر عمل درآمد مشکل ہو جائے گا۔ یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب دونوں حکومتوں نے ایک دوسرے پر الزام لگایا کہ وہ پڑوسی ملک کی داخلی حکومت کو کمزور کرنے کے لیے باغیوں کی حمایت کر رہے ہیں۔

تنازع کے بنیادی نکات:

جاسوسی کے الزامات

سرکاری اداروں میں مداخلت اور خفیہ معلومات چرانے کے دعوے کیے گئے ہیں۔

باغیوں کی حمایت

مسلح گروہوں کو مالی امداد اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنے کے الزامات ہیں۔

علاقائی عدم استحکام

ڈر ہے کہ یہ سفارتی جنگ کسی بڑی فوجی تصادم کی شکل اختیار نہ کر لے۔

ملک موجودہ موقف کیا اقدام کیا گیا؟
ایتھوپیا بیرونی مداخلت کا الزام سفارتی تعلقات کا خاتمہ
Eritrea داخلی تنازعات کو ہوا دینے کا الزام سفارتی تعلقات کا خاتمہ

یہ صورتحال خطے کو انتہائی کمزور بنا دیتی ہے، جس سے بین الاقوامی اداروں کی امن کوششیں مشکل ہو جائیں گی۔ تاہم، دنیا اب بھی امید کرتی ہے کہ بات چیت کے ذریعے ایک مثبت حل نکالا جا سکے گا تاکہ سرحدوں پر امن قائم رہے۔


ذرائع: IMAGO