تخریب کاری کا عالمی جال
جرمنی کے لیپزگ (Leipzig) ایئرپورٹ کا واقعہ محض ایک آغاز تھا۔ 4 اگست کو ایک ڈرون یوکرینی طیارے کے پر سے ٹکرایا۔ یہ ڈرون دراصل دھماکہ خیز مواد سے بھرا ایک ڈبہ تھا جسے دھاتی پلیٹ سے سیل کیا گیا تھا۔ اگرچہ یہ پھٹا نہیں، لیکن اس کی تکنیکی ساخت نے پورے براعظم میں پھیلے ہوئے ایک بڑے نیٹ ورک کی نشاندازی کی ہے۔
کام کرنے کا طریقہ (Modus Operandi):
روسی فوجی انٹیلیجنس (جسے GRU کہا جاتا ہے) کی یونٹ 29155 روزمرہ کی عام اشیاء (جیسے کھانے کے ڈبے) اور ٹیکس فری ممالک (Tax Havens) میں قائم فرضی کمپنیوں کا استعمال کر رہی ہے تاکہ ان کی تخریبی کارروائیوں کو چھپایا جا سکے۔
تحقیقات کے مطابق، اولگ لیووشکن (Oleg Levushkin) نامی ایک روسی-لتھوانین شہری نے ترکی سے سفر کر کے لیپزگ حملے کی ہم آہنگی کی تھی۔ تاہم، اس پوری حکمت عملی کے پیچھے اصل دماغ کرنل ڈینس سمولیانینوف (Denis Smolyaninov) بتائے جاتے ہیں، جو GRU کے یوکرین ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ اور نفسیاتی جنگ کے ماہر ہیں۔
یورپ میں تخریب کاری کا نقشہ
یہ مہم کوئی اتفاقی واقعہ نہیں تھی بلکہ اس کا مقصد عام شہریوں میں خوف و ہراس پھیلانا اور اسٹریٹجک اہداف کو نشانہ بنانا تھا۔
| ملک | واقعہ | اہم تفصیل |
|---|---|---|
| جرمنی | ڈرون حملہ اور میونخ میں تخریب کاری | ہدف: یوکرینی طیارہ اور دفاعی کمپنی |
| لتھوانیا | قبرستانوں اور Ikea میں دھماکہ خیز مواد | میکئی کے ڈبوں میں 700 گرام TNT |
| برطانیہ | آگ لگانے والے پیکجز | برمنگھم میں حملے، پاناما کے ذریعے کوآرڈینیشن |
| پولینڈ | آگ لگانے والے پیکجز | لاجسٹکس کا تعلق 'Longifolia' کمپنی سے |
| ایسٹونیا | آگ لگانے کا حملہ | ہدف: Milrem Robotics کمپنی |
| بلغاریا/چیک جمہوریہ | دھماکے | گولہ بارود کے ڈپوز کو نشانہ بنایا گیا |
جیو پولیٹیکل مقصد
جرمن BND کے سابق صدر گیرہارڈ شنڈلر کے مطابق، اس کا مقصد یورپی شہریوں میں براہ راست فوجی تصادم کا خوف پیدا کرنا ہے تاکہ وہ اپنی حکومتوں پر دباؤ ڈالیں اور یوکرین کی حمایت ختم کر دیں۔
لاجسٹکس اور انکار
- دھماکہ خیز مواد بلغاریا اور سربیا سے کارگو ٹرکوں میں چھپا کر لایا گیا۔
- پاناما میں رجسٹرڈ کمپنی Longifolia کو بطور ڈھال استعمال کیا گیا۔
- برلن میں روسی سفارت خانے نے ان تمام الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔
ذریعہ: IMAGO