مولڈووانا کی صدر مایا سینڈو نے روسی میزائلوں اور ڈرونز کے ملک میں گرنے کی رپورٹ دی ہے، جبکہ ماسکو یوکرین پر بمباری تیز کر رہا ہے۔ اس واقعے اور لتھوانیا میں نیٹو (NATO) کی تعیناتی نے سرحدی ممالک کو ہائی الرٹ کر دیا ہے، جس سے خطے میں عدم استحکام کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

ہفتے کی صبح، مولڈووانا (مشرقی یورپ کا ایک چھوٹا ملک) کی فضائی حدود ایک خطرناک موڑ پر پہنچ گئیں۔ صبح 7:45 سے 8:00 کے درمیان، تین روسی میزائل اور دو ڈرونز ملک کے اوپر سے گزرے، جس کے نتیجے میں زمین پر مادی تباہی ہوئی۔

فوری اثرات: پانچ فضائی ہتھیاروں کے ٹکڑے ہنسٹیسی (Hincesti)، انینی نوئی (Anenii Noi) اور کوزینی (Causeni) کے مشرقی اضلاع میں گرے، جس سے مقامی طور پر آگ لگ گئی۔ خوش قسمتی سے، کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

صدر مایا سینڈو نے اس حملے کی شدید مذمت کی ہے اور واضح کیا ہے کہ یہ کوئی اتفاقی واقعہ نہیں ہے۔ یہ واقعہ گزشتہ بدھ کو ہونے والی فضائی خلاف ورزیوں کے بعد پیش آیا ہے، جو کہ یوکرین کے دارالحکومت کیف پر روسی حملوں کے وقت ہوا تھا۔

علاقائی تناؤ کا جائزہ

جبکہ مولڈووانا ملبے کو صاف کرنے کی کوشش کر رہا ہے، یوکرین میں تشدد اور بالٹک ممالک میں تناؤ یورپی محاذ کو غیر مستحکم بنا رہا ہے:

ملک واقعہ نتیجہ / کارروائی
مولڈووانا فضائی خلاف ورزی (5 پروجیکٹائلز) مشرقی اضلاع میں آگ لگنا
یوکرین بڑے پیمانے پر روسی بمباری 8 اموات اور 83 شہری زخمی
لتھوانیا بیلاروس کی جانب سے مشکوک چیز ولنا ایئرپورٹ کی بندش اور نیٹو کی تعیناتی

لتھوانیا کی صورتحال نے آگ پر تیل ڈالنے کا کام کیا: ہفتے کے روز ولنا ایئرپورٹ کو ایک گھنٹے کے لیے بند کرنا پڑا کیونکہ بیلاروس کی سرحد سے ایک مشکوک چیز داخل ہوئی تھی، جس کے بعد نیٹو (NATO) کو اپنے جنگی طیارے تعینات کرنے پڑے۔

سیاسی پس منظر

شیشیناو (مولڈووانا کا دارالحکومت) کی حکومت یورپی یونین کے قریب ہے، جو ماسکو کے مفادات کے بالکل برعکس ہے۔

علاقائی سلامتی

بار بار ہونے والی فضائی مداخلتیں خطے کے غیر جانبدار یا فوجی طور پر غیر وابستہ ممالک کی سلامتی پر سوال اٹھاتی ہیں۔

  • نیٹو الرٹ: بالٹک ممالک میں تعیناتی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ روسی یا بیلاروسی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔

ماخذ: IMAGO