ارجنٹائن کی عدلیہ نے 19 اگست 2026 کو ایک تاریخی اور متنازعہ فیصلہ سنایا ہے جس میں مشہور گلوکار سرجیو ڈینس کی موت کے ذمہ دار خود گلوکار کو قرار دیا گیا ہے۔ اس فیصلے سے ان کے بچوں کو معاوضہ دینے سے انکار کر دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ توکومان کی کونٹینشیوز ایڈمنسٹریٹو کورٹ کی پہلی شاخ نے سنایا، جس میں عدالت نے کہا کہ یہ حادثہ گلوکار کی اپنی غفلت کی وجہ سے پیش گیا، جسے قانونی زبان میں 'خود کو خطرہ میں ڈالنا' (autopuesta en peligro) کہا جاتا ہے۔
مقدمے کی تفصیلات
یہ مقدمہ فروری 2022 میں سرگجوڈینس کے بچوں - فیڈریکو، باربرا، اور ماریا وکٹوریہ ہافمین - نے دائر کیا تھا۔ انہوں نے تھیٹر مرسڈیز سوسا، سانحو کی کارکنان کی ایسوسی ایشن (ATSA)، اور سابقہ تھیٹر ڈائریکٹر راؤل آرسمیسن کے خلاف یہ دعوٰی کیا تھا کہ 11 مارچ 2019 کو گلوکار ایک محفل میں گرنے سے زخمی ہو گئے تھے اور بعد میں اس کی وجہ سے انتقال کر گئے۔
حادثہ کیسے ہوا؟
- جگہ: تیٹر مرسڈیز سوسا، سان میگویل دی توکومان
- موقع: یہ محفل خواتین کے دن کے سلسلہ میں منائی گئی تھی اور اسے اے ٹی ایس اے کی طرف سے منعقد کیا گیا تھا
- رقم: ڈینس کو اس محفل کے لیے 80,000 ارجنٹائن پیسو ادا کیے گئے تھے
- حادثات کی ترتیب: ڈینس اسٹیج سے نیچے اترکر عوامی قریب گئے اور واپسی کے وقت وہ پاسریل پر چڑھ کر عوامی کی طرف پیٹھ کر کے چلنا شروع ہوئی۔ یہ دیکھتے ہوئے وہ آرکیسٹرا کے 3 میٹر گہرے گڑہے میں جا گرے
عدالت کے استدلال
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہاکہ یہ حادثہ مکمل طور پر گلوکار کی اپنی غفلت کا نتیجہ تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہاکہ تھیٹر میں موجود حفاظتی انتظامات اس زمانے میں درست اور برقرار تھے۔ عدالت نے دعویٰ کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ جرم سے وابستہ پہلے سے طے شدہ حقائق موجود نہیں تھے جومعاوضی کی دعویٰ کو جواز بنا سکتے تھیں۔
اس فیصلے میں عدالت نے آرٹیکل 1729 کا حوالہ دیا جو کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص خود اپنے ارادے سے کسی خطرے سے دوچار ہو اور نتیجے میں اسے نقصان پہنچے تو دوسرے فریق کی ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے۔
سرسو ڈینس کون تھے؟
سرسو ڈینس ارجنٹائن اور لاطینی امریکہ کے ایک انتہائی مقبول گلوکار تھے جنہوں نے اپنے کیرئیر میں 40 ملین سے زیادہ ریکارڈ فروخت کئے۔ وہ بالیڈ اور پاپ موسیقی کے بادشاہ مانے جاتے تھے اورانہیں ارجنٹائن کے میوزیکل ورثہ میں ایک اہم مقام حاصل ہے۔ ان کی موت ارجنٹائن بھر میں سنسناٹی پیدا کر گئی۔
خاندان کا رد عمل
سرسجی ڈینس کی بیٹی باربرہ ہافمین نے سوشل میڈیا پوہی ارتقبال کیا۔ انہوں نے لکھا: ارجنٹائن، وہ واحد ملک ہے جہاں متاثرین کو مجرم ٹھہرایا جاتا ہے۔ ہماری عدلیہ ناقابل اعتماد ہے۔ ان کے اس بیان نے سوشل میڈیا پر برہملولین واکنگ رد عمل کو جنم دی۔
فیصلہ کے اثرات
یہ فیصلہ حتمی نہیں ہے۔ خاندان کے پاس اپیل کی قانونی گنجائش موجود ہے۔ عدت نے بھی یہ اطلاع دی ہے کہ گلوکار کے بچے ان کی جائیداد کے وارثوں کی حیثیت میں مقدمہ پیش کرنے کے حق میں نہیں ہیں، جس سے انہیں دوہری شکست ہوئی ہے۔
عدالتی اخراجات خاندان پر ڈالے گئے ہیں، جن میں ATSA اور آرمیسن کے اخراجات کا 100%، تیترر انتظامی کے اخراجات کا 85%، اور کیاجا پاپولر سیونگ بینک کے اخراجات کا 90% شامل ہے۔
مقامی سیاق و سباق
ارجنٹائن کی قانونی نظام میں یہ فیصلہ ایک مثال قائم کر سکتا ہے۔ یہاں 'خودہ خطرہ' کا اصول عام طور پر اس وقت استعمال ہوتا ہے جب کوئی شخص خود کو جان بوجھ کر خطرہ میں ڈالے۔ اس فیصلے نے ملک بھر میں بحث و تنقید کا راستہ کھول دیا ہے کہ آیا عوامی تقریبات کا انعقاد کرنے والے اور فنکار کے درمیان ذمہ داری کی منصفانہ تقسیم کس طرح ہونی چاہیے۔
ذرائع: Infobae | TN | Ciudad Magazine