انصاف کی جانب ایک قدم: وفاقی جج کا اہم فیصلہ
ٹیکساس کے وفاقی جج اورلینڈو ایل گارسیا (Orlando L. Garcia) نے ایک عارضی حکم جاری کیا ہے جس کے تحت ولبر رافیل گارسیس پیریز (Wilber Rafael Garcés Pérez) نامی 28 سالہ وینزویلن شہری کی ملک بدری پر روک لگائی گئی ہے۔ ولبر کو 21 ستمبر کو آسٹن میں امیگریشن اور کسٹمز کی خدمات (ICE) کے ایجنٹوں کی فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
یہ قانونی کارروائی وکیل کیٹ لنکن گولڈ فنچ (Kate Lincoln-Goldfinch) کی درخواست پر کی گئی ہے، جنہوں نے ولبر کی نازک طبی حالت اور حراست کے دوران ہونے والی مبینہ بدسلوکی کی بنیاد پر ان کی فوری رہائی کی استدعا کی ہے۔
واقعہ کیا تھا؟ (پس منظر)
یہ افسوسناک واقعہ اینڈرسن اسکوائر اور ریسرچ بلیوارڈ کے تقاطع پر پیش آیا۔ دفاعی وکیل کے مطابق، ولبر جو کہ 'ڈور ڈیش' (DoorDash - ایک فوڈ ڈیلیوری ایپ) کے لیے کام کرتے تھے، ایک معمولی ٹریفک حادثے کے بعد نشانہ بنے۔
دوسری جانب، ڈیپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکیورٹی (DHS) اور آسٹن پولیس کا دعویٰ ہے کہ یہ ایک پولیس آپریشن تھا جس میں گاڑی کا پیچھا کرنے کے بعد ایک ICE ایجنٹ نے ولبر کے دھڑ میں گولی چلائی۔
طبی حالت اور انسانی حقوق
میڈیکل رپورٹس کے مطابق، ولبر کے ہڈی (Clavicle) میں فریکچر ہے اور ایک گولی اب بھی ان کی کمر میں موجود ہے۔ 22 ستمبر کو انہیں جسم کے بائیں حصے میں فالج جیسی کیفیت کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد انہیں ہنگامی طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا۔
آگے کیا ہوگا؟
اس کیس کی اگلی اہم سماعت 30 ستمبر 2026 کو ہوگی۔ اس دن جج گارسیا یہ فیصلہ کریں گے کہ آیا ولبر کو مکمل طور پر رہا کیا جائے یا انہیں حراست میں رکھا جائے۔ مقامی لوگوں اور کانگریس مین خواکین کاسترو کے دباؤ کی وجہ سے اس بات کا قوی امکان ہے کہ طاقت کے غلط استعمال کی آزادانہ تحقیقات کی جائیں گی۔