ارجنٹائن کی رکن پارلیمنٹ مارسیلا پاگانو نے وزیر خزانہ لوئس کاپوٹو اور مرکزی بینک کے سربراہ پر تقریباً 4 ٹریلین ارجنٹائن پیسو (تقریباً 3.3 بلین امریکی ڈالر) کے مبینہ خفیہ استعمال کا مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ جواب میں وزیر خزانہ نے ان کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یہ تنازع شروع ہوا: 4 ٹریلین پیسو کہاں گئے؟

یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب 29 جولائی 2026 کو ارجنٹائن کی حکومت نے قرضوں کی نیلامی کی۔ اس دن حکومت کو تقریباً 8 ٹریلین ارجنٹائن پیسو کے قرض واپس کرنے تھے، لیکن اس نے تقریباً 12 ٹریلین پیسو جمع کر لیے۔ اس کا مطلب ہے کہ حکومت نے اپنی ذمہ داریوں سے 44 فیصد زیادہ رقم وصول کی، جسے مالیاتی زبان میں 144 فیصد رول اوور کہتے ہیں۔

یہ اضافی رقم تقریباً 4 ٹریلین پیسو بنتی تھی، جو مارکیٹ سے نکال لی گئی۔ جب تجزیہ کاروں نے دیکھا کہ یہ رقم مرکزی بینک (بی سی آر اے) میں حکومت کے معمول کے کھاتے میں جمع نہیں ہوئی، تو سوالات اٹھنے لگے۔ مرکزی بینک کے سربراہ سانتیاگو باؤسیلی نے ایک غیر معمولی جواب دیا: 'اگر ہم اچھی طرح تلاش کریں تو یہ کہیں نہ کہیں موجود ہے'۔

اقتصادی وضاحت: ایک مالی چکر

بعد میں مالیاتی رپورٹس نے انکشاف کیا کہ یہ 4 ٹریلین پیسو غائب نہیں ہوئے، بلکہ بینکو ناسیونال (نیشنل بینک) میں جمع کر دیے گئے۔ اس کا مقصد مالیاتی نظام میں نقدی کی کمی کو روکنا تھا۔ اگر یہ رقم مرکزی بینک میں جمع ہو جاتی تو بینکوں کے پاس پیسے کم ہو جاتے، جس سے قلیل مدتی سود کی شرحیں آسمان کو چھو لیتیں۔

سرکاری مقصد

وزارت خزانہ کے مطابق یہ اقدام مالیاتی نظام میں نقدی کی گردش برقرار رکھنے کے لیے تھا تاکہ سود کی شرحیں بے قابو نہ ہوں اور معیشت کو نقصان نہ پہنچے۔

تنقید کا نشانہ

ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت نے اونچی شرح سود پر قرض لے کر رقم اکٹھی کی اور پھر اسے بینکو ناسیونال کے ذریعے کم شرح پر واپس مارکیٹ میں ڈال دیا، جس سے حکومتی اخراجات بڑھے۔

سیاسی جنگ اور مقدمہ

رکن پارلیمنٹ مارسیلا پاگانو، جو ایک سابق صحافی اور حکومت مخالف سیاست دان ہیں، نے اس معاملے کو عدالت میں لے جانے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کاپوٹو اور باؤسیلی کے خلاف سرکاری فنڈز کے مبینہ خفیہ استعمال پر مقدمہ دائر کیا۔

وزیر خزانہ لوئس کاپوٹو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ رقم کا سراغ لگایا جا سکتا ہے اور انہوں نے پاگانو کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر انہیں ہرجانہ ملتا ہے تو وہ اسے خیراتی ادارے کو عطیہ کریں گے۔

صدر خاویر میلی نے بھی اس تنازع میں کود کر کاپوٹو کا دفاع کیا اور پاگانو کو 'جھوٹی' اور 'گندگی' قرار دیا۔ پاگانو نے جوابی حملے میں کاپوٹو کو 'چور'، 'گدھا' اور 'غدار' کہا، جبکہ صدر کو 'پیتھولوجیکل جھوٹا' اور 'استحصالی طبقے کا نوکر' قرار دیا۔

مزید معلومات

ارجنٹائن اس وقت شدید معاشی بحران سے گزر رہا ہے جس میں مہنگائی کی شرح 200 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے۔ صدر میلی نے سخت کفایت شعاری کے اقدامات اٹھائے ہیں جن میں سرکاری اخراجات میں کٹوتی اور سبسڈیز کا خاتمہ شامل ہے۔ اس تنازع نے حکومت کی اقتصادی پالیسیوں پر تنقید کو مزید ہوا دی ہے۔

یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ یہ ارجنٹائن کے سیاسی حلقوں میں حکومت اور اس کے ناقدین کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔