میشونیس اور سالٹا کے گورنرز نے 26 اگست کو ایوانِ نمائندگان میں ایک نیا پارلیمانی بلاک بنانے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے انوویسیون فیڈرل کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اس نئے گروپ کے 7 ارکان، اوسکار ہیرا آہواد کی قیادت میں، وفاقی حکومت سے ہر قانون پر علیحدہ مذاکرات کریں گے اور صرف امدادی فنڈز کے بجائے ٹھوس عوامی پالیسیوں کا مطالبہ کریں گے۔

شمالی صوبوں کی سیاسی نئی صف بندی

ارجنٹائن کے شمالی صوبوں میشونیس اور سالٹا کے گورنرز نے ایک اہم سیاسی اقدام کرتے ہوئے وفاقی دارالحکومت بیونس آئرس سے دور اپنی علاقائی شناخت کو مضبوط کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 26 اگست 2026ء کو ایوانِ نمائندگان میں ایک نیا بلاک تشکیل دیا جائے گا، جس میں میشونیس کے چار اور سالٹا کے تین ارکان شامل ہوں گے۔ یہ بلاک گورنرز ہوگو پاسالاکوا (میشونیس) اور گوستاوو ساینز (سالٹا) کی براہِ راست ہدایت پر کام کرے گا۔

ذرائع کے مطابق، موجودہ بلاک انوویسیون فیڈرل جس میں میشونیس، سالٹا، سان لوئس اور فارموسا کے ارکان شامل تھے، اب تحلیل ہو جائے گا۔ نئے بلاک کی صدارت اوسکار ہیرا آہواد کریں گے، جو میشونیس کے سابق گورنر ہیں اور انہیں قومی سیاست میں تجربہ کار سمجھا جاتا ہے۔

“ہم صرف وفاقی حکومت کی حمایت کے لیے نہیں ہیں، ہم اپنے شمالی علاقوں کے لیے ٹھوس فوائد چاہتے ہیں۔ ہر قانون پر الگ مذاکرات ہوں گے۔”

— نئے بلاک کے ایک رکن کا بیان، انفوباے کے حوالے سے

میشونیس کی اندرونی سیاست: روویرا سے علیحدگی

یہ سیاسی تبدیلی میشونیس کی صوبائی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کا نتیجہ ہے۔ گورنر پاسالاکوا نے اپنے سابق سرپرست کارلوس روویرا سے تعلقات منقطع کر لیے ہیں، جو کئی دہائیوں سے صوبے کی سیاست پر حاوی تھے۔ پاسالاکوا نے اپنی نئی سیاسی جماعت بنائی ہے اور اب انہوں نے قومی سطح پر بھی اپنی آزادانہ حیثیت مضبوط کر لی ہے۔

ذرائع کے مطابق، روویرا گزشتہ دو ماہ سے یورپ میں تھے اور نہ تو کالوں کا جواب دے رہے تھے اور نہ ہی پیغامات کا۔ سالٹا کے گورنر ساینز نے ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔ یہاں تک کہ نارٹے گرانڈے سربراہی اجلاس میں ساینز نے انہیں “غائب شخصیت” قرار دیا۔

سینیٹ میں بھی نئی صف بندی

یہ تبدیلی صرف ایوانِ نمائندگان تک محدود نہیں ہے۔ سینیٹ میں بھی میشونیس کے سینیٹرز نے اپنی صف بندی تبدیل کر لی ہے۔ سینیٹر سونیا روخاس ڈیکوت نے پہلے ہی ‘موویمینتو پور میشونیس’ کے نام سے ایک منو بلاک بنا رکھا تھا، جو پاسالاکوا کے حامی ہیں۔ اب سینیٹر کارلوس آرسے نے بھی روویرا کی جماعت چھوڑ کر اس بلاک میں شمولیت اختیار کر لی ہے، جس سے گورنر کی سینیٹ میں بھی مضبوط پوزیشن ہو گئی ہے۔

پہلا عملی قدم: ماندیوکا پر ٹیکس میں کمی

نئے بلاک کا پہلا عملی اقدام ماندیوکا (ایک قسم کی جڑ والی فصل) کے آٹے اور نشاستے پر ویلیو ایڈڈ ٹیکس کو 21 فیصد سے کم کر کے 10.5 فیصد کرنا ہے۔ یہ تجویز ہیرا آہواد نے پیش کی ہے اور اسے شمالی علاقوں کی معیشت کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔ حکومتی حلقوں نے بھی اس کی حمایت کا اشارہ دیا ہے۔

اس کے علاوہ، وفاقی حکومت نے شمالی صوبوں کے لیے بجلی کے سبسڈی کے نئے نظام پر اتفاق کیا ہے۔ گرم اور انتہائی گرم علاقوں میں صارفین کو زیادہ سبسڈی دی جائے گی، جس کا سالانہ تخمینہ 71 سے 90 ملین امریکی ڈالر بنتا ہے۔

دوسرے شمالی صوبوں کے ساتھ رابطہ

یہ صف بندی صرف میشونیس اور سالٹا تک محدود نہیں۔ کاتامارکا کے گورنر راؤل خلیل اور توکومان کے گورنر اوسوالدو خالدو بھی شمالی صوبوں کے مشترکہ موقف پر کام کر رہے ہیں۔ اگرچہ انہوں نے ایک بڑا مشترکہ بلاک بنانے سے انکار کیا ہے، لیکن ان کا کہنا ہے کہ وہ اہم معاملات پر مل کر بات چیت کریں گے۔ اس طرح ان کے پاس ایوانِ نمائندگان میں تقریباً 13 سے 15 ارکان کی حمایت ہو سکتی ہے، جو حکومت کے لیے اہم ہو سکتی ہے۔

فیڈرل پیرونزم کے رہنما بھی اس صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ وکٹوریا تولوسا پاز، گیلرمو میشل اور ایمیر فیلکس جیسے رہنماؤں نے پاسالاکوا سے ملاقات کی ہے اور مشترکہ ایجنڈے پر بات چیت کی ہے۔

ذرائع: Infobae، Parlamentario، La Política Online، Ámbito، La Nación۔