صدر جیویر میلئی نے ایک بار پھر اپنی اقتصادی گفتگو میں اہم قدم رکھا ہے، اس وعدے کو یاد کرتے ہوئے جو انہوں نے ایک ایسے وقت میں کیا تھا جب افراطِ زر "ارجنٹائینیوں کی سب سے فوری پریشانی" تھی۔ آغری نیشل ریسپانس آفس کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کردہ پیغام میں، صدر نے کہا کہ ان کی حکومت نے یہ وعدہ پورا کیا ہے: جہاں ان سے پہلے والوں نے افراطِ زر کو کئی گنا بڑھایا، وہاں انہوں نے اسے ختم کردیا۔
مقامی سیاق و سباق: افراطِ زر ارجنٹائن کے لیے کیوں اہم ہے؟
ارجنٹائن میں افراطِ زر صرف ایک معاشی اصطلاح نہیں، بلکہ عام لوگوں کی روزمرہ زندگی کا ایک اہم حصہ ہے۔ جب افراطِ زر ہوتی ہے، تو کھانے پینے، کرایہ، اور دیگر ضروریاتِ زندگی کی قیمتیں تیزی سے بڑھتی ہیں، جس سے لوگوں کی بچت اور خریداری کی طاقت کم ہوتی ہے۔
میلئی کا بیانیہ اور حکومت کے دعوے
20 اگست کو 13:53 پر، صدارتی آفس کے سرکاری اکاؤنٹ نے یہ اعلان شائع کیا۔ صدر میلئی کا کہنا ہے کہ جب وہ اقتدار میں آئے، افراطِ زر سب سے زیادہ فوری مسئلہ تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی پالیسیاں (مالی اور اجرائے زر کی سخت گیری) کے نتیجے میں افراطِ زر کم ہو رہا ہے۔
ان اعداد و شمار کو سمجھنے کے لیے، ہمیں جانتھا ہوگا کہ ارجنٹائن کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسٹیٹسٹکس اینڈ سینسز (INDEC) افراطِ زر کی ماپ کرتا ہے۔ 2023 میں ارجنٹائن کی سالانہ افراطِ زر 211.4 فیصد تک پہنچ گئی تھی، جو دنیا کی سب سے زیادہ شرحوں میں سے تھی۔ اس کے بعد حکومت نے مختلف اقدامات کیے، اور 2024 کے آغاز سے اشکہ میں مسلسل کمی دیکھی گئی ہے۔
"وہاں جہاں میرے پیشرو افراطِ زر کو بڑھاتے رہے، میں نے اسے ختم کر دیا" – صدر میلئی
یہ بییان، جس میں میلئی کی حمایت کا اظہار کیا گیا ہے، اس وقت آیا ہے جب ملک اگلے انتخابات کی تیاری کر رہا ہے۔ حکومت اسے اپنی کارکردگی کا ایک نمایاں کامیابی کے طور پر پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
اہم معلومات
- 📅 20/08/2026 – پرس بیان جاری کیا گیا
- 🕐 13:53 – پیغام کا وقت
- 📉 کمی – اشکور کی شروعاتی شرح
- 🇦🇷 پیشن گوئی – ارجنٹینیوں کی قوت خرید پر اثر
یہ نوٹ:
اعداد و شمار کی تصدیق کے لیے سرکاری ذرائع کی کمی کی وجہ سے، ان کا اندازہ لگانا صرف بہت توقع ہے۔ یہ بیانات مطلع صدر اور ان کی ٹیم کی پالیسی کے اہداف کی عکاسی کرتے ہیں، نہ کہ حقیقی ڈیٹا کا متبادل۔