سائنس کی دنیا سے اہم انکشاف: ماں کی صحت اور بچے کا دماغ
طبی جریدے Brain Communications میں شائع ہونے والی ایک حالیہ تحقیق نے حاملہ خواتین میں خون کی کمی کے اثرات پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
برطانیہ کے King’s College London اور جنوبی افریقہ کی University of Cape Town کے محققین نے ایک جامع مطالعہ کیا جس میں یہ بات سامنے آئی کہ جن ماؤں میں خون کی کمی ہوتی ہے، ان کے بچوں کا دماغی حجم اوسطاً 4 فیصد کم پایا گیا۔ حیران کن بات یہ ہے کہ یہ اثرات معمولی خون کی کمی کی صورت میں بھی دیکھے گئے ہیں۔
تحقیق کا طریقہ کار اور ٹیکنالوجی
اس تحقیق میں جنوبی افریقہ کے شہر کیپ ٹاؤن میں 300 سے زائد ماؤں اور ان کے بچوں کا معائنہ کیا گیا۔ سائنسدانوں نے Low-field portable MRI (کم طاقت والے پورٹیبل ایم آر آئی) اسکینرز کا استعمال کیا، جو روایتی مشینوں کے مقابلے میں سستے اور زیادہ قابل رسائی ہیں۔
بچوں کے دماغ کا معائنہ 3 ماہ سے لے کر 2 سال کی عمر تک کیا گیا، جس سے معلوم ہوا کہ دماغی فرق نہ صرف برقرار رہتا ہے بلکہ وقت کے ساتھ بڑھتا جاتا ہے۔
دماغ کے کون سے حصے متاثر ہوئے؟
تحقیق کے مطابق، دماغ کے وہ حصے جو معلومات پر کارروائی کی رفتار، فیصلے کرنے کی صلاحیت اور جذباتی نظم و ضبط کے ذمہ دار ہیں، سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ ان حصوں میں Putamen، Caudate Nucleus اور Corpus Callosum شامل ہیں۔
| متاثرہ حصہ (Corpus Callosum) | 12 ماہ کی عمر میں کمی | 24 ماہ کی عمر میں کمی |
|---|---|---|
| دماغی حجم کا فرق | 4% | 6% |
ماہرین کی وارننگ: "یہ فرق ختم نہیں ہوتے بلکہ 6 سال کی عمر تک برقرار رہ سکتے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ جب بچہ اسکول جانا شروع کرے گا تو اسے سیکھنے اور ذہنی صلاحیتوں میں دشواری کا سامنا ہو سکتا ہے۔"
عالمی تناظر اور خطرات
Anemia (خون کی کمی) کیا ہے؟ یہ ایک ایسی حالت ہے جس میں خون میں سرخ خلیات یا ہیموگلوبن کی کمی ہو جاتی ہے، جس کی وجہ سے جسم کے اعضاء کو آکسیجن کم ملتی ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ آئرن (لوہے) کی کمی ہے۔
دنیا بھر میں ایک تہائی (1/3) حاملہ خواتین اس مسئلے کا شکار ہیں، خاص طور پر جنوبی ایشیا اور افریقہ کے خطوں میں۔ تحقیق میں یہ بھی پایا گیا کہ HIV کے ساتھ زندگی گزارنے والی خواتین میں خون کی کمی کی شرح زیادہ تھی۔
بچاؤ اور تدابیر: ایک امید کی کرن
اچھی خبر یہ ہے کہ اس صورتحال سے بچا جا سکتا ہے! ماہرین نے درج ذیل سفارشات کی ہیں:
- قبل از وقت تشخیص: حمل کے دوران باقاعدگی سے ٹیسٹ کروائیں۔
- آئرن سپلیمنٹس: ڈاکٹر کے مشورے سے آئرن کی گولیاں یا انجکشنز کا استعمال کریں۔
- بہتر غذا: آئرن سے بھرپور خوراک کا استعمال یقینی بنائیں۔
پورٹیبل ایم آر آئی اسکینرز کا کامیاب استعمال ان علاقوں میں بھی تشخیص کو ممکن بنائے گا جہاں مہنگی مشینیں دستیاب نہیں ہیں۔